مسلح افواج نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطاء اللہ تارڑ
- کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے عسکری ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیاں کیں۔
وزیر اطلاعات نے ایک پیغام میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ان ہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں جو افغان طالبان کے ذریعے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جن کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکوں سے بڑے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔
ننگرہار میں چار عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، گولہ بارود اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ طالبان کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے افغان اور عالمی سطح پر ان کے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد پاکستانی فوج نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا، جس سے پہلے افغان سرحدی علاقے سے بلا جواز فائرنگ کی گئی تھی۔
وزیر اطلاعات نے 15 مارچ کو بتایا تھا کہ اس آپریشن میں 684 خوارج اور افغان طالبان کے اہلکار ہلاک اور 912 دیگر زخمی ہوئے، جبکہ 229 ٹینک، آرمڈ گاڑیاں اور توپیں تباہ ہوئیں۔
ساتھ ہی 252 پوسٹیں تباہ اور 44 دیگر قبضے میں لے کر مسمار کی گئیں، جبکہ افغانستان میں 73 دہشت گرد مددگار ڈھانچے فضائی کارروائیوں کے ذریعے غیر فعال کر دیے گئے۔


























Comments