فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 37A کے تحت ٹیکس فراڈ کے مقدمات میں اسیسمنٹ کارروائی کے دوران انکوائری، تحقیقات، مقدمہ درج کرنے اور گرفتاری کے آغاز کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) جاری کردیے ہیں۔
ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ونگ نے ان ہدایات کو ایک ایس او پی کے ذریعے فیلڈ فارمیشنز اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو بھیج دیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ٹیکس فراڈ کے کیسز میں فوجداری کارروائی اب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔
ایف بی آر کا آپریشنز ونگ اب سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 37 اے کے تحت ٹیکس فراڈ کے کیسز میں فوجداری کارروائی سے نمٹنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ فوجداری استغاثہ کے تمام کیسز اب متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کو بھیجے جائیں گے جو فنانس ایکٹ 2025 اور متعلقہ نوٹیفیکیشنز یا سرکولرز میں پہلے سے وضع کردہ تمام طریقہ کار کی مکمل پیروی کرے گا۔
اعلیٰ حکام نے تاجر برادری کے اس خوف کو مسترد کردیا ہے کہ یہ مقدمات کاروباری اور تجارتی حلقوں کی نوٹیفائیڈ کمیٹیوں کے ساتھ مشاورت کے بغیر چلائے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے ایس او پی نے اس سلسلے میں ایف بی آر کے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے بعد سول اور فوجداری ذمہ داری کو الگ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندہ کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے سے پہلے اس کی شہری ذمہ داری کا تعین کرنا ضروری ہوگا۔
ایک عہدیدارنے اس بات کا اعتراف کیا کہ تاجر برادری ’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو‘ کے سامنے پیش ہونے پر کبھی خوش نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایف بی آرکے فیلڈ دفاتر کے ساتھ لین دین میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔
سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 37 اے میں کی گئی حالیہ ترامیم، جو گزشتہ فنانس ایکٹ میں متعارف کرائی گئی تھیں، تجارتی تنظیموں اور کاروباری برادری میں شدید تشویش کا باعث بنی ہیں۔ اس کے جواب میں اس وقت کی حکومت نے ان تجارتی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے بعد یقین دہانی کرائی تھی کہ اس پروویژن کے تحت اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔
معروف قانونی ماہر ارشد شہزاد نے اس بنیادی مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے تجارتی تنظیموں کی جانب سے اٹھائے گئے اہم خدشات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خاص طور پر ٹیکس فراڈ کی ترمیم شدہ تعریف اور سیکشن 37 اے کے تحت کارروائی کے دوران بلا روک ٹوک الزامات عائد کیے جانے کے امکانات پر بحث کی۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ بجٹ کی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کی مشق کے دوران، حکومتی مداخلت اور ایف بی آر کی قیادت کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ طے پایا تھا کہ صرف وہی کیسز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس کو سیکشن 37 اے کے تحت کارروائی کے لیے بھیجے جائیں گے جن میں ٹیکس فراڈ کا واضح اور بڑا عنصر موجود ہو۔ اس فیصلے کا مقصد ایسے معمولی الزامات یا چھوٹی غلطیوں کو نکالنا ہے جو بصورتِ دیگر ٹیکس فراڈ کی (نئی) تعریف کے زمرے میں آ سکتی تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں بھی زیرِ بحث آیا تھا، جس میں انہوں نے خود بھی شرکت کی تھی۔ بجٹ کے بعد ہونے والے اس اجلاس میں، جہاں تجارتی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے، ایف بی آر حکام نے واضح کیا تھا کہ سیکشن 37 اے کے نفاذ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی تاجر یا ٹیکس گزار کو ایکٹ کے سیکشن 37 (8) میں درج قانونی طریقہ کار کی پیروی کیے بغیر فوری طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔
ارشد شہزاد نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کے لیے اپنی اس پوزیشن کو واضح کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ کاروباری برادری میں پھیلی بے چینی اور اضطراب کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر لوگ اس ایس او پی کے مکمل پس منظر اور موجودہ وقت میں اس کے اجراء کی ضرورت سے واقف نہیں ہو سکتے، جس کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments