انڈس واٹرز ٹریٹی، ثالثی عدالت نے دوسری مرحلے کی سماعت مکمل کرلی
- بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا جواب نہیں دیا اور پیش بھی نہیں ہوا
ثالثی کی عدالت نے 3 فروری 2026 کو پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف انڈس واٹرز ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) کے آرٹیکل IX اور اینیکسچر جی کے تحت دائر ثالثی کی دوسری مرحلے کی سماعت مکمل کی۔
اس مرحلے میں پاکستان نے ثالثی عدالت سے استدعا کی کہ انڈس، جہلم اور چناب دریائوں اور ان کی شاخوں پر بھارت کے زیر تعمیر رن آف ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے کچھ ڈیزائن عناصر کی تشریح اور اطلاق پر فیصلہ کرے، قبل اس کے کہ یہ دریا پاکستان میں داخل ہوں۔
کورٹ کے پروسیجرل آرڈر نمبر 17 مورخہ 21 نومبر 2025 کے مطابق، اس مرحلے میں عدالت یہ طے کر رہی ہے کہ بھارت کو کسی مجوزہ اینیکسچر ڈی، پارٹ 3 ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کی انسٹالڈ کیپیسٹی اور متوقع لوڈ کس بنیاد پر طے کرنی چاہیے اور جب یہ طے ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ پانی کے ذخیرے (پونڈیج) کی حساب کتاب میں ان عناصر کو کس طرح مدنظر رکھا جائے۔
دو روزہ سماعت کے دوران پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان،پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز سید محمد مہر علی شاہ، پاکستان کے نیدرلینڈز میں سفیر سید حیدر شاہ، ڈپٹی ہیڈ آف مشن جمال ناصر، پروفیسر فلپا ویب سر ڈینیئل بیلتھھم، شارلٹ ویسٹ بروک ڈاکٹر کیمرون مائلز، عبداللہ طارق بطور وکیل، اور پیٹر جے رائے اور ڈاکٹر گریگوری مورس بطور تکنیکی مشیر اور ایڈوکیٹس نے کی۔
بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا جواب نہیں دیا اور پیش بھی نہیں ہوا۔
ثالثی عدالت کی صدارت پروفیسر شان ڈی مرفی (امریکہ) کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں پروفیسر ووٹر بایوٹارٹ (بیلجیم)، پروفیسر جیفری پی مائنئر (امریکہ)، جج اون شوکت الخساؤنے (اردن) اور ڈاکٹر ڈونلڈ بلیک مور (آسٹریلیا) شامل ہیں۔
ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق، پرنسیپل آرڈربینیشن کورٹ اس ثالثی کارروائی کے لیے سیکرٹریٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments