تازہ ترین ڈیبٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 جو فِسکل رسپانسبلٹی اور ڈیٹ لیمیٹیشن (ایف آر ڈی ایل) ایکٹ کے تحت قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، ایک بار پھر ملک کے مالیاتی ضابطہ اخلاق (رول بک) کو اختیاری (غیر لازمی) سمجھے جانے کی کہانی سناتی ہے۔
بیان کے مطابق مالی سال 25-2024 میں عوامی قرضہ قانونی حد سے 16.8 ٹریلین (168 کھرب) روپے کے ہوشربا اضافے کے ساتھ تجاوز کرگیا جو جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک جا پہنچا جب کہ پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ قرض کی زیادہ سے زیادہ جائز حد 56 فیصد تھی۔
دوسرے لفظوں میں عوامی قرضہ قانونی حد سے جی ڈی پی کے 14.7 فیصد کے بڑے فرق کے ساتھ تجاوز کر گیا جو کہ خود پر مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے میں حکومت کی مسلسل ناکامی کا ثبوت ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ (قرض کی حد کی) یہ خلاف ورزی پاکستان کے نظامِ حکمرانی میں موجود ایک گہری ساختی خرابی کو بے نقاب کرتی ہے: یعنی پہلے بے دریغ خرچ کرنا، پھر اس خرچ کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا اور بعد میں اس کے جواز پیش کرنے کے لیے من گھڑت تاویلیں تراشنا۔
مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے کیلئے بنائے گئے قوانین کو عموماً نظر انداز کردیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ کو عام طور پر تب آگاہ کیا جاتا ہے جب (قرض کی) حدیں پار ہوچکی ہوتی ہیں جبکہ حد سے تجاوز کرنے پر انتظامیہ کو کسی فوری جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ واضح ہے کہ ریاست کا بنیادی آپریٹنگ ماڈل اب بھی صرف کھپت پر مبنی ہے جو اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے اور معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے سے لاتعلق ہے۔
ان تمام عوامل کا مجموعی اثر یہ ہے کہ اب وفاقی بجٹ کا آدھا حصہ قرضوں کی ادائیگی (سود) کی نذر ہوجاتا ہے جس سے ترقیاتی اخراجات کی گنجائش سکڑتی جارہی ہے۔ اس صورتحال نے پی ایس ڈی پی (ترقیاتی پروگرام) کو کھوکھلا کردیا اور پہلے سے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام پر مزید بھاری ٹیکس لگانے پر مجبور کردیا ہے۔
ابھی گزشتہ ماہ ہی ایک معروف تحقیقی ادارے (تھنک ٹینک) نے پاکستان کے قرضوں کے بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا تھا: مالی سال 2015 سے 2025 کے درمیان عوامی قرضوں میں 365 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا جو 17.3 ٹریلین (173 کھرب) روپے سے بڑھ کر 80.5 ٹریلین (805 کھرب) روپے تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ دہائی کے دوران قرضوں کی ادائیگی (سود) کے اخراجات آمدنی میں ہونے والے اضافے سے کہیں زیادہ رہے۔
اسی طرح تشویشناک بات یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران مقامی قرضوں کی ادائیگی (سود) اخراجات میں اضافے کے سب سے بڑے محرک کے طور پر ابھری ہے جس نے ترقیاتی فنڈز کو پسِ پشت ڈال دیا اور معیشت کو اس پیداواری سرمایہ کاری سے محروم کر دیا جو قرض کے جال کو توڑنےکیلئے ضروری تھی۔ اس مایوس کن منظر نامے میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ کو دی جانے والی یقین دہانیاں کھوکھلی معلوم ہوتی ہیں۔
اگرچہ حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں بگاڑ پیدا ہوا ہے لیکن اس کا اصرار ہے کہ وہ ایف آر ڈی ایل ایکٹ پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت وعدہ کرتی ہے کہ وہ مالیاتی استحکام، پرائمری سرپلس پیدا کرنے اور مالیاتی خسارے میں بتدریج کمی کے ذریعے عوامی قرضوں کو پائیدار سطح پر واپس لائے گی۔
یہ مقصد کیسے حاصل کیا جائے گا، یہ بات بالکل غیر واضح ہے کیونکہ فسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026 ظاہر کرتی ہے کہ وفاقی مالی خسارہ بھی پارلیمنٹ کی مقرر کردہ حد سے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد تک تجاوز کرگیا ہے۔ یہ اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ مالیاتی استحکام کے دونوں بنیادی ستون یعنی قرض اور خسارہ بیک وقت تجاوز کر چکے جس کی وجہ سے مستقبلِ قریب میں معاشی بہتری کے حکومتی دعووں کی ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
رواں سال کے ابتدائی آثار بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایف بی آر جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں اپنے محصولات (ٹیکس) کے ہدف کو حاصل کرنے میں پہلے ہی 347 ارب روپے پیچھے رہ گیا جب کہ حکومت قرضوں کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے فنانشل انجینئرنگ پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
موجودہ حکمتِ عملی کا مرکز درمیانی اور طویل مدتی مالیاتی آلات کے زیادہ اجرا کے ذریعے قرض کی واپسی کی مدت کو طویل کرنا، فکسڈ ریٹ (مستقل شرحِ سود) والے قرضوں کی طرف منتقلی، مقامی مارکیٹ کو وسعت دینا اور ملک کے اندر و باہر نئے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کرنا ہے، جس میں مجوزہ پانڈا بانڈزکا اجرا بھی شامل ہے۔
اگرچہ یہ اقدامات مختصر مدت میں قرضوں کی ری فنانسنگ اور شرحِ سود کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں لیکن یہ بنیادی عدم توازن کو جوں کا توں چھوڑ دیتے ہیں: یعنی ایک ایسی حکومت جو اپنی بساط سے زیادہ خرچ کرنا جاری رکھے ہوئے ہے اور خاطر خواہ محصولات جمع کرنے میں ناکام ہے۔ اس خلیج کو پُر کیے بغیر، قرضوں کی مینجمنٹ صرف حساب کتاب کے وقت کو آگے ہی بڑھائے گی، نہ کہ عوامی مالیات کو کسی پائیدار بنیاد پر کھڑا کرے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک طرزِ حکمرانی کے مرکز میں موجود ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی مالیاتی بے ضابطگی جڑ پکڑ کر برقرار رہے گی۔
سرکاری محکمے اپنے بجٹ سے تجاوز کرتے رہیں گے، ریاست کی جانب سے ہونے والے اخراجات پیداواری سرمایہ کاری کے بجائے کھپت کو ترجیح دیں گے، پنشن کا بوجھ بڑھتا جائے گا اور سول بیوروکریسی کا پھیلاؤ (بوجم) برقرار رہے گا۔
حکومت نہ صرف موجودہ بھاری قرضہ پورا کرنے کیلئے قرض لے گی بلکہ جاری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے بھی ادھار لینا پڑے گا جس سے ایک خود برقرار رکھنے والا چکر قائم ہو جائے گا جو کسی بھی مؤثر مالیاتی اصلاح کی کوشش کو ناکام بنا دیتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments