معدنی دولت کا درست استعمال: قومی ترقی کی کلید
- گزشتہ برس پاک امریکہ تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری کے نتیجے میں ایک مثبت پہلو پاکستان کے معدنیاتی شعبے پر نئے سرے سے توجہ مرکوز ہونا تھا
گزشتہ برس پاک امریکہ تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری کے نتیجے میں ایک مثبت پہلو پاکستان کے معدنیاتی شعبے پر نئے سرے سے توجہ مرکوز ہونا تھا جو کہ اب تک اپنی بساط سے کہیں کم استعمال ہوا ہے۔
اس پیشرفت نے اس وقت عملی شکل اختیار کی جب یو ایس اسٹریٹجک میٹلز اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت امریکی کمپنی نے پاکستان میں معدنیات کی پراسیسنگ اور ترقیاتی سہولتوں کے قیام کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد کیا، اسی سلسلے میں اکتوبر میں معدنی نمونوں کی پہلی کھیپ امریکہ روانہ کی گئی تاکہ اس ڈیل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اسے ملک کو ان اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانے کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا گیا جو کہ قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر کمپیوٹنگ اور دفاع جیسی صنعتوں کی بنیاد ہیں۔
تاہم جیسا کہ انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پی) کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک پالیسی نوٹ میں درست طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ملک محض خام دھاتوں کا سپلائر ہی رہا تو ان نو آموز اقدامات کے فوائد انتہائی محدود ہوں گے۔ جدید عالمی ویلیو چینز میں دولت معدنیات نکالنے کے مقام پر نہیں بلکہ ان کی پراسیسنگ، ریفائننگ اور ڈاؤن اسٹریم مینوفیکچرنگ (تیار شدہ اشیاء کی تیاری) کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
خام معدنیات کی برآمد ممالک کو ترقی کی سیڑھی کے نچلے ترین درجے پر مقید کر دیتی ہے، جہاں منافع کی شرح انتہائی کم ہوتی ہے، ٹیکنالوجی کی منتقلی محدود ہوتی ہے اور روزگار کے وہ فوائد بھی ابتدائی اخراج (کھدائی) کے مرحلے کے بعد جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔
چنانچہ جیسا کہ آئی سی ایم اے پی نے درست طور پر دلیل دی ہے، اگر مقصد زرمبادلہ کی آمد کو مضبوط بنانا، برآمدات کو بڑھانا، صنعتی بنیاد کو وسعت دینا اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو پاکستان کو خام معدنیات کو پراسیس شدہ اور ویلیو ایڈڈ (اعلیٰ قدر والی) مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہوگی جو ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے عالمی معیارات کے مطابق ہوں۔
پاکستان کی معدنی دولت کسی بھی لحاظ سے حیران کن ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 6 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی اس دولت کی مالیت 80 کھرب (8 ٹریلین) ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں 92 شناخت شدہ معدنیات شامل ہیں اور ان میں سے 52 کی تجارتی پیمانے پر کھدائی کی جا رہی ہے، اس کے باوجود یہ شعبہ سالانہ بمشکل 2 ارب ڈالر ہی پیدا کر پاتا ہے۔
اس ناقص کارکردگی کی سنگینی اس وقت واضح ہو جاتی ہے جب ملک کے معدنی ذخائر کی وسیع رینج کو دیکھا جائے، جس میں تانبے کے دنیا کے پانچویں بڑے ذخائر کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر اور کوئلہ، جپسم، کرومائٹ، لیتھیم اور نایاب زمینی عناصر کے وسیع ذخائر شامل ہیں۔
اس دولت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے سب سے پہلے ایک واضح اور مربوط گورننس فریم ورک کی ضرورت ہے جو پالیسی کے تسلسل اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنائے
18ویں ترمیم نے صوبوں کو معدنی وسائل پر زیادہ کنٹرول تو دے دیا، لیکن اختیارات کی وضاحت اور ضوابط میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ناکافی کوششوں نے اتھارٹیز کے درمیان ٹکراؤ، بکھرے ہوئے انتظامی عمل اور پیچیدہ ریگولیٹری رکاوٹیں پیدا کردی ہیں جو اسٹریٹجک فیصلہ سازی کی راہ میں حائل ہیں۔
صوبائی خدشات کا احترام کرتے ہوئے ان انتظامی خلاؤں کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔ مزید برآں امریکہ کے ساتھ ابھرتی ہوئی شراکت داری کے ساتھ چین اور مشرقِ وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ متوازی روابط اور جیسا کہ آئی سی ایم اے پی نے وکالت کی ہے، ای ایس جی کے مطابق ویلیو چینز کی تشکیل پاکستان کو عالمی معدنی سپلائی میں ایک معتبر ملک کے طور پر کھڑا کر سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکام کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ای ایس جی اصول صرف ماحولیاتی پاسداری یا کارپوریٹ گورننس تک محدود نہیں ہیں۔ ان اصولوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان معدنی خزانوں کے اوپر بسنے والی کمیونٹیز خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی تاریخی طور پر پسماندہ اور عسکریت پسندی سے متاثرہ آبادی کو ان معاشی فوائد میں حصہ دیا جائے۔
مائننگ ویلیو چین (کان کنی کے عمل) میں مقامی آبادی کی بھرپور شرکت کے بغیر اس شعبے کے ذریعے وسیع البنیاد خوشحالی لانے کی صلاحیت بڑی حد تک ادھوری رہے گی۔
اس ہدف کے حصول کے لیے ہیومن کیپٹل اور جدید ترین ٹیکنالوجی میں خطیر سرمایہ کاری کے ساتھ ان جڑ پکڑ چکے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت درکار ہے جن میں سیکیورٹی کے خطرات، موسمیاتی تبدیلیاں (کلائمیٹ ولنر ایبیلیٹی)، معاہدوں کی ناقص نگرانی اور طویل قانونی تنازعات شامل ہیں، یہ وہ تمام عوامل ہیں جنہوں نے بارہا اس شعبے میں ترقی کی راہ روکی ہے۔
پاکستان اب ان غلطیوں کو دہرانے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو دیگر شعبوں میں دیکھی گئی ہیں جہاں برآمدات بڑھانے کی کوششیں اکثر صرف مقامی اضافی پیداوار کو بیرونِ ملک بھیجنے تک محدود رہیں جبکہ ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافے) یا عالمی سپلائی چینز کا حصہ بننے پر بہت کم توجہ دی گئی۔
معدنیاتی شعبے میں مقصد بنیادی طور پر مختلف ہونا چاہیے: پیداوار کو اسٹریٹجک بنیادوں پر استوار اور بین الاقوامی منڈیوں کے مخصوص مطالبات کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ معدنیات نکالنے، پراسیس کرنے اور ریفائننگ کا ہر مرحلہ معاشی منافع اور طویل مدتی مسابقت کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026






















Comments