سائبر ریزیلینس تنہا حاصل نہیں کی جا سکتی، گورنر اسٹیٹ بینک
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مشترکہ اقدام کے طور پر پاکستان میں بینکنگ انڈسٹری کی سطح پر پہلی کامیاب سائبر ڈرل منعقد ہوئی جو مؤرخہ 12 سے 19 جنوری 2026ء تک کراچی اور لاہور میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے کے بعدکراچی میں ختم ہوگئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بطور مہمانِ خصوصی اختتامی تقریب میں شرکت کی جب کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے انڈسٹری کی جانب سے بطور میزبان شرکت کی۔
اختتامی تقریب میں اࣦن معزز شخصیات کی شرکت بینکاری کی صنعت، اسٹیٹ بینک اور دیگر شرکاء کی سینئر قیادت کے مل جل کر مالیاتی شعبے کو مضبوط بنانے کے اجتماعی عزم کو اجاگر کرتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ سائبر ریزیلینس تنہا حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے اجتماعی تیاری، شفاف معلومات کی شراکت اور ریگولیٹری اداروں اور جن اداروں کو ریگولیٹ کیا جارہا ہے، اُن کے درمیان اعتماد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے ماحول میں سائبر ریزیلینس کا پیمانہ یہ نہیں کہ سائبر حملے ہوتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اُن کا کتنے مؤثر طریقے سے جواب دیتے ہیں۔ پاکستان میں بینکاری کا شعبہ جس طرح ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب بڑھ رہا ہے، عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔
جمیل احمد کے مطابق اس طرح کی سائبر ڈرلز صارفین، مارکیٹوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے ایک مضبوط اور اطمینان بخش پیغام ہیں کہ پاکستان کا مالیاتی نظام فعال، تیار اور عالمی معیار کے مطابق ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ یہ اقدام یقیناً ایک اہم سنگِ میل ہے جو ہمارے مالیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی پختگی، دور اندیشی اور اجتماعی عزم کو ظاہر کرتا ہے جس سے ابھرتے ہوئے بڑے خطرات، جیسا کہ سائبر رسک، کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ سائبر ریزیلینس اب کوئی انتخاب نہیں رہی، یہ مالیاتی شعبے کیلئے اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور اسٹیٹ بینک کے زیر اہتمام پوری صنعت کی سطح پر سائبر ڈرل، اجتماعی تیاری کو مضبوط بنانے، باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر جواب دینے کے لیے، یعنی اداروں میں فوری ردِعمل کی صلاحیت پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ایسے اقدامات کرنے کیلئے پرعزم ہے جو پاکستان میں بینکاری کے سیکٹر کے تحفظ اور ریزیلینس کو بڑھائیں اور مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کریں۔
عمدہ ہم آہنگی کے ساتھ کی گئی سائبر ڈرل میں 34 مالیاتی ادارے شامل ہوئے جنہوں نے صنعت کی جانب سے فراہم کردہ سمولیشن لیب کی مدد سے اس ڈرل میں فعال حصہ لیا۔ ان شرکاء میں تکنیکی ٹیمیں اور سینئر مینجمنٹ کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔
یہ ڈرل متوازی مینجمنٹ اور تکنیکی ٹریکز کے ذریعے انجام دی گئی جس میں شریک اداروں کو حقیقی سائبر بحران کے منظرناموں، جیسا کہ رینسم ویئر کےحملوں اور اہم متبادل ڈیجیٹل چینلوں میں خلل، کا جواب دینے کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے شعبہ کی سطح پر ہم آہنگی، مسئلے کو مؤثر طور پر حل کرنے کی صلاحیت، اور دباؤ میں بروقت فیصلہ سازی درکار تھی۔
ڈرل کا مقصد مالیاتی اداروں کی حادثاتی ردعمل، ہم آہنگی اور بحران کے انتظام کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور انہیں مضبوط کرنا تھا، تاکہ بدلتے ہوئے سائبر خطرات کے منظرنامے میں مؤثر طور پر کارروائی کی جا سکے۔
تقریب میں شریک اداروں کی دلچسپی کو بھی سراہا گیا اور ایس بی پی-پی بی اے سائبر ڈرل کمیٹی کی کامیاب منصوبہ بندی اور مؤثر عمل درآمد کے لیے کی گئی انتھک کوششوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔ ان کوششوں کا اعتراف اس بات کی علامت تھا کہ پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی تعاون اور اداروں کی سطح پر عزم کو کس قدر اہمیت دی جا رہی ہے۔
انڈسٹری سطح کی اس سائبر ڈرل کی کامیاب تکمیل پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ملک کے مالیاتی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اس بات کوبھی اُجاگر کرتی ہے کہ انڈسٹری کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک بڑھتی ہوئی اور پیچیدہ سائبر سیکیورٹی صورتحال کے مقابلے میں فعال، لچکدار اور حالات کے مطابق مطابقت اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رے۔ یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی نظام کی مضبوطی اور عالمی معیار کے مطابق تیاری کا ثبوت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments