مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ، دفتر خارجہ کا اظہار مذمت
- پاکستان مذہبی ظلم و ستم کے خلاف ہر فورم پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا
پاکستان نے ہفتے کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مساجد کی پروفائلنگ مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت اور مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔کشمیری مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور دیوار سے لگانے کی ایک اور جبری کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور ان سے وابستہ افراد کو نشانہ بناتے ہوئے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ایک وسیع مہم شروع کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے میں مذہبی اور شہری زندگی پر کنٹرول کو مزید سخت کرنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی حکام نے کئی علاقوں کی مساجد میں چار صفحات پر مشتمل ایک مفصل فارم تقسیم کرنا شروع کردیا ہے جس کے ذریعے مذہبی اداروں اور ان کے عہدیداروں بشمول امام، خطیب، مؤذن، مسجد کمیٹی کے ارکان اور بیت المال سے وابستہ افراد کے بارے میں جامع معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ مذہبی شخصیات کی تصاویر اور مسلکی تفصیلات کا جبری حصول منظم ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد نمازیوں میں خوف پیدا کرنا اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مساجد اور علمائے کرام کو نشانہ بنانا مودی حکومت کی ہندوتوا نظریے پر مبنی ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کا شاخسانہ ہے اور بھارتی پالیسیاں واضح طور پر امتیازی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی ہیں۔
دفترخارجہ نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو کسی بھی خوف یا دباؤ کے بغیر اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے اور پاکستان مذہبی ظلم و ستم کے خلاف ہر فورم پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ان کے ساتھ یکجہتی برقرار رکھے گا اور کشمیری عوام کو نشانہ بنانے والے تمام مذہبی ظلم و تعصب کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔




















Comments