بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تناؤ مزید بڑھانے کی کوشش ہے، شیری رحمٰن
- معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے بعد بھارت نے سندھ طاس میں کئی متنازع ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سینیٹر
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت کا پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پہلے ہی کشیدہ اور عدم اعتماد سے بھرپور پاک بھارت تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کرے گا۔
یہ پیش رفت بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پر 260 میگاواٹ کے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منظوری کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کی ہفتے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارتِ ماحولیات کے ایک پینل نے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے اپنی ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ تو معقول ہے اور نہ ہی اس خطے کے لیے قابل قبول جو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی دباؤ کی فرنٹ لائن پر ہے۔ یہ بیان انہوں نے بھارت کی جانب سے چناب ندی پر ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے کر انڈس واٹرز ٹریٹی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے ردِعمل میں دیا۔
سینیٹر نے وضاحت کی کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت جسے یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے مبصرین نے بھی تصدیق کی ہے، پاکستان کا دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر اختیار ہے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے دریا بھارت کے کنٹرول میں آتے ہیں۔
پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے بعد بھارت نے سندھ طاس میں کئی متنازع ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں میں ساول کوٹ، رتلے، برسر، پکل ڈل، کوار، کیرو اور کرتھائی 1 اور 2 شامل ہیں۔ دلہستی اسٹیج-II کو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ زیرِ نظر تصویر میں موجود بگلیہار ڈیم پر پاکستان پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے طور پر احتجاج کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹرز نے اس ماہ کے اوائل میں پاک بھارت جنگ پر ایک رپورٹ میں انڈس واٹرز ٹریٹی پر پاکستان کے موقف کی تائید کی۔ انہوں نے بھارت کے معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان پر گہری تشویش ظاہر کی اور نوٹ کیا کہ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پاکستان میں لاکھوں افراد کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی، خوراک، روزگار، صحت، ماحول اور ترقی کے حقوق اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے زور دیا کہ سرحد پار پانی کے حقوق میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور پانی کو سیاسی یا اقتصادی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر آئی ڈبلیو ٹی کو معطل نہیں کر سکتا اور معاہدہ اسی وقت مؤثر رہے گا جب تک دونوں حکومتیں باہمی طور پر ایک نئے معاہدے کے ذریعے اسے ختم نہ کریں۔
خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں بھارت کی ثالثی میں حصہ نہ لینے اور آئی ڈبلیو ٹی کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے کے رویے کا بھی ذکر کیا گیا۔






















Comments