امریکی حکومت نے رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے تارکین وطن کے لیے وظیفہ 3 گنا بڑھادیا
- غیر قانونی تارکینِ وطن کو اس پیشکش سے فائدہ اٹھا کر خود وطن واپس چلے جانا چاہیے، کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم انہیں تلاش کر لیں گے، سیکریٹری محکمہ داخلی سلامتی
امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) نے پیر کے روز بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا سے رضاکارانہ طور پر خود وطن واپس جانے والے تارکینِ وطن کے لیے وظیفہ تین گنا بڑھا کر 3,000 ڈالر کر دیا ہے۔
ڈی ایچ ایس کے مطابق یہ وظیفہ اُن افراد کو دیا جائے گا جو غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم ہیں اور سال کے اختتام تک ملک چھوڑنے کے لیے اندراج کراتے ہیں۔ پیشکش میں اُن کے آبائی ممالک واپسی کے لیے مفت پرواز بھی شامل ہوگی۔
ڈی ایچ ایس کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو اس پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود وطن واپس چلے جانا چاہیے، کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم انہیں تلاش کریں گے، گرفتار کریں گے اور وہ کبھی واپس نہیں آ سکیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں سی بی پی ہوم کے نام سے ایک ازسرِ نو برانڈڈ ایپ لانچ کی تھی تاکہ لوگوں کے لیے خود وطن واپسی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ اس ایپ کا سابقہ نام سی بی پی ون تھا، جسے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں تارکینِ وطن کو قانونی طور پر امریکا میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) نے مئی میں بتایا تھا کہ بغیر قانونی حیثیت والے کسی فرد کو گرفتار، حراست میں رکھنے اور ملک بدر کرنے کا اوسط خرچ تقریباً 17,000 ڈالر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے جنوری میں عہدہ سنبھالتے وقت ریکارڈ سطح کی ملک بدر پالیسی کا وعدہ کیا تھا، نے تنقید کے باوجود امیگریشن پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ہر سال ایک ملین تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا تھا، ان کی انتظامیہ نے رواں سال تاحال تقریباً 622,000 تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ 2026 میں امیگریشن کے خلاف مزید سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اربوں ڈالر کے نئے فنڈز کے ساتھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہزاروں نئے امیگریشن ایجنٹ بھرتی کریں گے، نئے حراستی مراکز کھولیں گے، اور بیرونی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بغیر قانونی حیثیت والے افراد کو ٹریک کریں گے۔

























Comments
Comments are closed.