امید ہے سپریم کورٹ پاکستان میرے حق میں فیصلہ دے گی ، سابق سی ای او ٹی آر جی ضیا اللہ چشتی کا برمودا کورٹ میں بیان
- پاکستان کی اعلیٰ عدالت دلائل سن رہی ہے ، تاہم فیصلے کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی
ٹی آر جی اور اے آئی کمپنی افینٹی کے سابق سی ای او ضیا اللہ خان چشتی نے گزشتہ ماہ برمودا کی سپریم کورٹ میں کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان کی سپریم کورٹ ان کے حق میں جلد فیصلے کرے گی، اس فیصلے سے وہ دوبارہ ٹی آر جی پاکستان اور ٹی آر جی انٹرنیشنل پر کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی اعلیٰ عدالت ابھی دلائل سن رہی ہے ، تاہم فیصلے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔
ضیا اللہ خان چشتی اس وقت امریکہ اور برمودا میں غیر ادا شدہ ٹیکسز، بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں اور اثاثہ جات کی منتقلی سے متعلق قانونی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ برمودا کی سپریم کورٹ کے دستاویزات کے مطابق ضیا اللہ چشتی نے عدالت کو بتایا کہ اگر پاکستان کی سپریم کورٹ ان کے حق میں فیصلہ کرتی ہے تو وہ جلد ہی ٹی آر جی پاکستان اور ٹی آر جی انٹرنیشنل پر کنٹرول حاصل کر لیں گے اور اپنے واجب الادا قرضے ادا کر دیں گے۔
ضیا چشتی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وہ اس وقت دیوالیہ ہیں، مگر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مالی حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نو ملین ڈالر کی وصولیوں کو جلد ہی حل کر دیں گے۔
ضیا چشتی کے دیوالیہ ہونے کے دعوے کے برعکس عدالت کے ریکارڈز کے مطابق 2022 میں انہیں ٹی آر جی انٹرنیشنل سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ نقد اور شیئرز موصول ہوئے تھے۔ حالیہ برمودا کورٹ کے فیصلے میں ظاہر ہوا کہ زیادہ تر اثاثے ان کی زوجہ کے نام منتقل کیے گئے اور ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز خریدنے اور افینٹی کے حریف کاروبار کے لیے استعمال کیے گئے۔
پاکستان میں حالیہ قانونی صورتحال میں سندھ کی اپیلٹ کورٹ نے ٹی آر جی پاکستان کو وقتی طور پر رعایت دی ہے، جبکہ جے ایس سی ایل کے خلاف کیس کی سماعت زیر التوا ہے۔ ٹی آر جی پاکستان اور اس کی شراکت دار کمپنیوں نے 2002 سے ٹیکنالوجی اور آئی ٹی خدمات میں سرمایہ کاری کی ہے۔
گزشتہ برس 2021 میں افینٹی کی ایک سابق خاتون ملازمہ نے امریکی کانگریس میں گواہی دی اور ضیا اللہ خان چشتی پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا، جس کے بعد ضیا چشتی نے فوری طور پر افینٹی کے سی ای او اور چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا۔




















Comments