مال بردار ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ، متعدد فیکٹریاں بند ، اشیائے ضروریہ کی قلت
- سیلانی کے کنٹینرز بندرگاہ پر پھنس گئے ، 9 روزہ ہڑتال کے باعث مستحقین میں گرم کپڑوں کی تقسیم معطل، تاجروں کو اربوں کا نقصان
مال بردار ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال تاجروں اور غریب طبقے کے لیے بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ غریب افراد گرم کپڑوں کی عدم دستیابی کے باعث شدید سردی میں مشکلات کا شکار ہیں۔
مسلسل نویں روز جاری ہڑتال کے باعث کئی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور شہروں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس سے سخت سردی میں شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے لیے ملائیشیا سے آنے والے گرم کپڑوں کے پانچ کنٹینرز اس وقت بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث مستحقین میں ان کپڑوں کی تقسیم رک گئی ہے۔
سیلانی کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں پر کنٹینرز کا دباؤ بڑھ رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ تاجر تنظیموں کے مطابق ہڑتال سے اب تک اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

























Comments
Comments are closed.