بونڈی بیچ حملے کے ملزم والد بھارتی شہری کے طور پر فلپائن گئے،حکام
- دونوں باپ بیٹے کم نومبر کو فلپائن پہنچے اور داؤاؤ صوبے کو اپنی حتمی منزل بتایا
آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر قاتلانہ حملے کے مبینہ ملزم والد اور بیٹے نے نومبر کے پورے مہینے میں فلپائن میں وقت گزارا، منیلا حکام نے منگل کو تصدیق کی کہ والد بھارتی شہری کے طور پر ملک میں داخل ہوئے۔
ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید، جن پر بونڈی بیچ پر حنوکہ تقریب کے دوران 15 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کرنے کا الزام ہے، یکم نومبر کو فلپائن پہنچے اور داؤاؤ صوبے کو اپنی حتمی منزل بتایا۔ دونوں نے 28 نومبر کو داؤاؤ سے منیلا کے راستے واپس سڈنی کے لیے روانہ ہوئے۔
پولیس اور فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزمان کی ملک میں موجودگی کی تصدیق کے عمل میں تھے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والا دہشت گردانہ عمل ہو سکتا ہے۔ پولیس نے کہا کہ ساجد اکرم موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا بیٹا اسپتال میں نازک حالت میں ہے۔
ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ اسلامک اسٹیٹ سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ نوجوان کے زیر استعمال گاڑی میں خود ساختہ دھماکہ خیز مواد اور دو مقامی آئی ایس آئی ایس جھنڈے بھی موجود تھے۔
والد اور بیٹے نے تقریب کے دوران تقریباً دس منٹ تک فائرنگ کی، جس سے لوگوں کو فرار ہونا پڑا۔ سڈنی کے کئی اسپتالوں میں 25 افراد زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔
اسرائیلی سفیر عامر میمون نے بونڈی کا دورہ کیا اور آسٹریلیائی حکومت سے کہا کہ یہودیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ بونڈی میں عارضی یادگاری مقام پر پھول رکھے گئے۔
واقعے کے بعد آسٹریلیا میں گن قوانین پر نظرثانی کی جا رہی ہے، کیونکہ ساجد اکرم کا گن لائسنس 2023 میں جاری ہوا تھا اور اس کے پاس چھ رجسٹرڈ ہتھیار تھے۔ ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے کہا کہ پرانے قوانین کی دوبارہ جانچ ضروری ہے۔
آخری اطلاعات کے مطابق، 15 مقتولین میں پانچ بچوں کے والد رابی، ہولوکاسٹ زندہ بچ جانے والا اور 10 سالہ لڑکی مٹیلڈا برٹوان شامل ہیں۔ دو پولیس اہلکار بھی نازک مگر مستحکم حالت میں اسپتال میں ہیں۔
لینا چرنیخ، جو مٹیلڈا کی خالہ ہیں، نے بتایا کہ ان کے خاندان کے لیے یہ صدمہ ناقابل یقین ہے اور وہ اس واقعے کو حقیقت نہیں ماننا چاہتے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.