انسانیت کی خدمت کا عالمی نشان پرنس کریم آغا خان چہارم
- انسانیت کی بھلائی، تعلیم اور امن کے لیے لگ بھگ سات دہائیوں کی خدمات پر اعزازات سے نوازا گیا
13 دسمبر کو محترم پرنس کریم آغا خان چہارم کا یومِ پیدائش منایا جاتا ہے، جو گزشتہ صدی کی سب سے زیادہ قابل احترام عالمی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ مشہور رہنما، انسان دوست اور امن و ترقی کے انتھک حامی رہے ، پرنس کریم آغا خان چہارم شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49 ویں موروثی امام تھے۔اخلاقی بصیرت اور وژن کے حامل آغا خان چہارم نے انسانی وقار اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے تقریباً 70 دہائیاں وقف کیں۔
13 دسمبر 1936 کو جنیوا میں پیدا ہونے والے آغا خان چہارم نے اپنا ابتدائی بچپن نیروبی میں گزارا، بعد ازاں انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے معروف انسٹی ٹیوٹ لو روزے سے تعلیم حاصل کی اور 1959 میں ہارورڈ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں گریجویشن کیا۔ جب وہ صرف 20 سال کے تھے تو اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ بن امام آغا علی شاہ آغا خان III کے منصب پر فائز ہوئے، جنہوں نے جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نوجوان جانشین مقرر کیا تھا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ آغا خان چہارم نے نہ صرف اس وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا بلکہ اسے نئی بلندیاں بھی عطا کیں۔
آغا خان چہارم کے دور میں سائنسی اختراعات اور تکنیکی ترقی کے ساتھ تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس پیچیدگی کے درمیان انہوں نے ایک ترقیاتی فلسفہ بیان کیا جس کی جڑیں اسلامی اخلاقیات میں اور مرکز انسانی صلاحیتوں پر مرکوز تھیں۔ 1982 میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسلام مکمل مذہب ہے جو ایک مسلمان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے جو کچھ کیا جائے اسے ایمانداری، خلوص اور بہترین انداز میں انجام دینا چاہیے۔
آغا خان چہارم کے ترقیاتی فلسفے کے کئی نمایاں پہلو تھے، ان کی فکر کبھی بھی محض معاشی ترقی تک محدود نہیں رہی ، ان کا مقصد و مشن اسلام کے بنیادی پیغام پر مبنی تھا اور وہ سنت نبوی ﷺ کے مطابق کسی بھی ملک یا کمیونٹی کے کمزور طبقات کی مدد کرنا اپنا بنیادی اصول سمجھتے تھے، جو کہ نزول اسلام کے وقت سے ہی چلا آ رہا ہے۔
یہ عالمی نظریہ اس ادارے کی بنیاد بنی جو بعد میں دنیا کے سب سے بڑے اور مؤثر نجی ترقیاتی نیٹ ورکس کا روپ دھار گیا ، جسے لوگ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کے نام سے جانتے ہیں۔اے کے ڈی این نے 30 ممالک میں صحت، تعلیم، ثقافت، اقتصادی ترقی اور قدرتی آفات سے بچاؤ اور انسانیت کی خدمت کیلئے کام کرنے والی ایجنسیوں کا عالمی نیٹ ورک قائم کیا۔
اس نیٹ ورک کے ادارے سالانہ 14 ملین افراد کو صحت کی سہولیات، 2 ملین سے زائد لوگوں کو تعلیم اور 50 ملین افراد کو مالی خدمات فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر جنوبی و وسطی ایشیا اور سب صحارا افریقہ سرفہرست ہیں۔
آغا خان چہارم کے نزدیک بامقصد ترقی “مربوط معاشروں کی تخلیق تھی جو اچھی طرح سے حکومت کرنے والے، اقتصادی طور پر خود کفیل، اپنے لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے والے، آپس میں پرامن ہوں۔ یہ جامع وژن اے کے ڈی این ادارے کی بنیاد بنا، تاکہ کمیونٹیز مضبوط اور مستحکم ہوں۔
پاکستان میں اس کی خدمات نمایاں ہیں۔ اسماعیلی امامت کے تعلقات خطے کے ساتھ ایک صدی پر محیط ہیں، جس کا آغاز 1905 میں گوادر کے پہلے آغا خان اسکول سے ہوا۔ آج آغا خان ایجوکیشن سروس ملک بھر میں 154 اسکولوں کا نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)، پاکستان کے معتبر اعلیٰ تعلیم اداروں میں سے ایک ہے، جو طب، نرسنگ اور تعلیم میں عالمی معیار کے پیشہ ور افراد تیار کرتی ہے۔ یہ صحت اور سماجی علوم میں تحقیق اور علم کی تخلیق میں بھی پیش پیش ہے۔ اسی طرح آغا خان ہیلتھ سروس اور آغا خان ایجنسی برائے ہیبی ٹاٹ نے صحت کے نظام، موسمیاتی موافقت کی کوششوں، صاف پانی و سیوریج انفرااسٹرکچر اور آفات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کے اثرات کے دائرے کو وسیع کیا۔
آغا خان چہارم نے عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے بھی غیر متزلزل خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف نظریات اور ثقافتوں کی موجودگی کو بنیاد سمجھتے تھے اور انسانی وقار کی بحالی پر انتھک زور دیتے تھے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں تھی، جیسا کہ پاکستان میں متعدد تاریخی مقامات کی بحالی میں نظر آتا ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین اعزازات نشانِ امتیاز اور نشانِ پاکستان کے علاوہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز، اعزازی ڈگریاں اور شہری امتیازات دیے گئے۔
پرنس کریم آغا خان چہارم 4 فروری 2025 کو 88 سال کی عمر میں وفات پا گئے اور ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے پرنس رحیم آغا خان پنجم امام بنے۔ پرنس کریم آغا خان چہارم کے انتقال سے ایک شاندار دور کا اختتام ہوا لیکن ان کا مشن موجودہ آغا خان کی قیادت میں جاری ہے، ان کے بنائے ہوئے ادارے اور نظریات دنیا بھر میں انسانی ترقی کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔
آج ان کے یومِ پیدائش پر ہم دانشور اور ایک عظیم رہنما کو یاد کرتے ہیں جس نے ایک مثالی زندگی گزاری اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔





















Comments
Comments are closed.