میں نے تعاون کیا ، پھر بھی تشدد سہنا پڑا ، ڈکی بھائی نے جیل سے رہائی کے بعد خاموشی توڑ دی
- نیند کی کمی ، شدید ذہنی دباؤ اور مستقبل کے خوف نے مجھے بہت متاثر کیا ، یوٹیوبر سعد الرحمن
مشہور پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی نے اپنی گرفتاری کے بعد 100 دن کی خاموشی توڑ دی اور مداحوں کے ساتھ اپنے دورانِ حراست مشکل حالات کا تجربہ شیئر کیا۔
ڈکی بھائی کو اگست میں لاہور ایئرپورٹ پر نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گرفتار کیا تھا، جب وہ ملائیشیا جانے کی کوشش کر رہے تھے، حراست میں لیے جانے کا تعلق جوا ایپلیکیشنز کے فروغ کے کیس سے تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا اور وہ 26 نومبر کو جیل سے باہر آئے۔
ڈکی بھائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ وہ خاموشی توڑیں گے اور انٹرنیٹ اسے کبھی نہیں بھولے گا۔ اتوار کو انہوں نے یوٹیوب چینل پر جذباتی ویڈیو جاری کی، جس میں کہا کہ یہ 100 دن ان کی زندگی کے سب سے مشکل دن تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی، شدید ذہنی دباؤ اور مستقبل کے خوف نے انہیں بہت متاثر کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے افواہوں اور قانونی دباؤ کو بھی ذہنی تکلیف کی وجہ قرار دیا۔
ڈکی بھائی نے تسلیم کیا کہ اس دوران ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوئی، مگر گھر واپسی نے انہیں حوصلہ اور سکون دیا۔
انہوں نے کہا کہ خاموشی کا سبب قانونی کارروائیوں پر اثر انداز نہ ہونا تھا، اس لیے وہ مناسب وقت تک صبر کرتے رہے۔ ابتدائی قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد انہوں نے مداحوں کے ساتھ اصل صورتحال شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈکی نے کہا کہ انہیں ملائیشیا میں ایک بین الاقوامی تقریب میں شرکت کے دوران گرفتار کیا گیا، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ این سی سی آئی اے نے ان کا 23 دن کا ریمانڈ لیا، حالانکہ انہوں نے پہلے 23 منٹ میں تمام معلومات اور اپنے موبائل، لیپ ٹاپ اور تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈز فراہم کر دیے تھے۔
اس کے باوجود انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں شدید تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور تحقیقات کرنے والے افسر نے نہ صرف خود بدسلوکی کی بلکہ ایک نوجوان لڑکے کو فون پر بلا کر ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا کہا۔
ڈکی بھائی نے مداحوں کو یقین دلایا کہ وہ دوبارہ متحرک ہونے کے لیے پرجوش ہیں اور نئے مواد اور منصوبوں پر زیادہ عزم، محنت اور توانائی کے ساتھ کام کریں گے۔
آخر میں انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں اس مشکل صورتحال سے نکالنے میں مدد کی۔
ڈکی بھائی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ملک چھوڑ کر مستقل طور پر نہیں جا رہے۔

























Comments
Comments are closed.