نومبر، مہنگائی میں اضافہ متوقع، خوراک کی قیمتیں اور سرحدی بندش اہم سبب
- ماہانہ بنیاد پر نومبر 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 0.8 فیصد رہنے کا امکان ہے
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان میں نومبر 2025 کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح میں اضافے کا امکان ہے جس کی سالانہ شرح 6.5 سے 7.0 فیصد تک متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ خوراک کی فراہمی میں خلل اور توانائی کی قیمتوں میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہوگا۔
ماہانہ بنیاد پر نومبر 2025 کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح 0.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماہانہ اضافے کی وجہ خوراک کی قیمتوں میں 1.52 فیصد اضافہ ہے، جو ملک میں سیلاب کے اثرات اور افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب ہوا۔
ٹاپ لائن نے بتایا کہ خوراک کی مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ پیاز (59 فیصد)، مرغی (16فیصد )، گوشت (15 فیصد) اور تازہ سبزیوں (12 فیصد) کی قیمتوں میں ہوا۔ اس کے علاوہ، رہائش، پانی، بجلی اور گیس کے زمرے میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں مہنگائی ایک اہم اور مسلسل معاشی چیلنج رہی ہے۔ مئی 2023 میں صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی بڑھنے کی شرح تاریخی ریکارڈ 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
بعدازاں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں بڑی کمی دیکھی گئی جو ستمبر 2024 تک سنگل ڈیجٹ میں آ گئی (6.9 فیصد) اور اپریل 2025 میں سب سے کم سطح 0.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم کم ترین سطح کے بعد مہنگائی بڑھنے کی شرح دوبارہ بڑھنے لگی ہے جو حالیہ مہنگائی میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اکتوبر 2025 میں پاکستان کی ہیڈلائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 11 ماہ میں سب سے زیادہ تھی۔ ٹاپ لائن کے مطابق نومبر 2025 کے لیے مہنگائی کی توقعات کے باعث حقیقی شرح سود 400 تا 450 بیسس پوائنٹس تک پہنچ سکتی ہے، جو پاکستان کی تاریخی اوسط 200 تا 300 بیسس پوائنٹس سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اہم تبدیلی مستقبل میں مہنگائی کے رجحان کو متاثر کرنے والا بڑا عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔
بدھ کو اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی نہ صرف مرکزی بینک کی پیش گوئیوں کے مطابق ہے بلکہ متوسط مدتی مدت میں 5 تا 7 فیصد کے ہدفی حد کے اندر رہنے کی توقع بھی ہے۔

























Comments
Comments are closed.