بیرونی سرمایہ کاری، بورڈ آف انوسٹمنٹ کی ناکامی پر آڈیٹر جنرل کے سخت تحفظات
- بورڈ آف انویسٹمنٹ مسلسل اپنے خود مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، رپورٹ
بورڈ آف انوسٹمنٹ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حصول میں بورڈ کی ناکامی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اے جی پی کی یہ سخت تنقید پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت محمد معین عامر پیرزادہ کر رہے تھے، جہاں 2011-12، 2012-13 اور 2014-15 سے 2022-23 تک کے عرصے سے متعلق بورڈ آف انویسٹمنٹ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
اے جی پی کی جانچ سے یہ انکشاف ہوا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ مسلسل اپنے خود مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، خصوصاً 2019 کے ایکشن پلان میں طے کردہ اہداف، جن کے تحت پاکستان کے سرمایہ کاری برائے جی ڈی پی تناسب کو تین سال میں 20 فیصد تک بڑھانا مقصود تھا۔
اس بلند ہدف کے باوجود بورڈ ملک میں جمود کا شکار ایف ڈی آئی کے رجحان کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط آڈٹ پیراز نے واضح کیا کہ توانائی کی قلت، امن و امان کی صورتحال اور دیگر عالمی و مقامی مسائل کا حوالہ دینے کے باوجود بورڈ کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔
تاہم اے جی پی کی رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ اب یہ عوامل بورڈ کی ناکامی کو چھپانے کے لیے محض آسان بہانے بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں ایک مایوس کن تصویر پیش کی گئی ہے جس کے مطابق خالص ایف ڈی آئی انتہائی کم سطح پر رہی، خاص طور پر 2015 سے 2018 کے نسبتاً مستحکم دور کے مقابلے میں۔
اگرچہ بورڈ نے صورتحال کو بہتر ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اے جی پی نے ایف ڈی آئی میں بھاری کمی کو بورڈ کی حکمت عملی اور عملدرآمد میں گہرے نقائص کی واضح علامت قرار دیا ہے۔
اپنے دفاع میں بورڈ نے 2013 سے 2017 کے درمیان ایف ڈی آئی میں بتدریج اضافے کا دعویٰ کیا، تاہم سرمایہ کاری کے مسلسل زوال پذیر رجحان کے باعث یہ مؤقف اپنی ساکھ تیزی سے کھو رہا ہے۔ 2001 کے آرڈی نینس اور 2013 کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت بورڈ کا مینڈیٹ واضح ہے کہ وہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے اور معاشی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے۔
لیکن اے جی پی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ ان اہداف کے حصول میں ناکام رہا ہے، جس سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آیا بورڈ آف انویسٹمنٹ واقعی سرمایہ کاری کے فروغ کے اعلیٰ ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے یا محض پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے خاموش تماشائی بن چکا ہے۔
اے جی پی کی رپورٹ کے جواب میں پی اے سی کے پینل، جس نے ایف ڈی آئی کے حصول میں بورڈ کی خراب کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا، نے 2011-12 سے 2022-23 تک کی آڈٹ رپورٹس کی بنیاد پر بورڈ کی سرگرمیوں پر جامع بریفنگ طلب کر لی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.