سی ڈی ڈبلیو پی نے 79.28 ارب روپے کے نو ترقیاتی منصوبے منظور کر دیے
- سی ڈی ڈبلیو پی نے سات منصوبے جن کی لاگت 34.66 ارب روپے تھی براہ راست منظور کیے
سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی(سی ڈی ڈبلیو پی) نے ہفتے کے روز نو ترقیاتی منصوبے جن کی مجموعی لاگت 79.28 ارب روپے ہے کی منظوری دیدی۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے سات منصوبے جن کی لاگت 34.66 ارب روپے تھی براہ راست منظور کیے اور دو بڑے منصوبے جن کی مالیت 44.62 ارب روپے تھی ایگزیکٹو کمیٹی برائے قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کو حتمی منظوری کے لیے بھیج دیے۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اویس منظور سمرا، پی آئی ڈی ای کے وائس چانسلر، چیف اکنامسٹ، پلاننگ کمیشن کے اراکین، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی ترقیاتی محکموں کے سربراہان اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔
منظور شدہ منصوبوں میں تعلیم، حکومت، صحت، ہائر ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ، بجلی، ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور پانی کے وسائل جیسے شعبے شامل ہیں۔
ہائی ایجوکیشن کے شعبے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے ”یونیورسٹی آف تربت کے قیام (فیز ٹو)“ منصوبے کو 1,930.33 ملین روپے کی لاگت سے منظور کیا۔ اس میں تعلیمی بلاک، اسٹوڈنٹ ہوسٹلز، فیکلٹی اور اسٹاف ہاؤسنگ، اندرونی سڑکیں، ڈرینج، پانی کی فراہمی، سولر سسٹمز، لیب آلات، کتابیں، فرنیچر اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان پوسٹ کا خودکار نظام منصوبہ 6.645 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا، جس کا مقصد ملک بھر کے 2,761 پوسٹ آفسز کی ڈیجیٹلائزیشن اور مالیاتی خدمات کو جدید بنانا ہے۔
دیگر شعبوں میں متعدد منصوبے بھی منظور کیے گئے: چترال میں دانش اسکول کے قیام کے لیے 3.32 ارب روپے، وفاقی اداروں کی پالیسی اور پروگرام کی استعداد بڑھانے کے لیے 5.432 ارب روپے، پی آئی ایم ایس میں اسٹروک اور کارڈیک کیئر کی سہولیات کے لیے 7.221 ارب روپے، پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ پروگرام کے لیے 4.84 ارب روپے، خیبر ون، ٹو اینڈ تھری اور نگر خاص ون اینڈ ٹو ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی بحالی کے لیے 5.275 ارب روپے۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر میں لاہور–سیالکوٹ موٹروے سے عمرکوٹ تک لنک ہائی وے کی تعمیر کے لیے 28.964 ارب روپے کی سفارش کی گئی، جبکہ پانی کے شعبے میں پہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پروجیکٹ 15.654 ارب روپے کے لیے ایکنک کو بھیجا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.