ڈیجیٹل معیشت کے لئے عوامی و نجی شعبے کا تعاون ضروری، گورنر اسٹیٹ بینک
- ریگولیٹرز، بینکس، فِن ٹیک ادارے اور پالیسی سازوں کو محفوظ اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا, جمیل احمد
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی عوامی اور نجی شعبوں کے مضبوط تعاون پر منحصر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریگولیٹرز، بینکس، فِن ٹیک ادارے اور پالیسی سازوں کو ایک محفوظ اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
کراچی میں سسٹمز لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ فیوچر آف بینکنگ سمٹ 2025سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے اس بات کو سراہا کہ کمپنی نے بینکاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون ایک ایسے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے جہاں اختراعات مالی شمولیت، کارکردگی اور صارفین کے اعتماد کو مضبوط بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مستقبل اب کوئی دور کا خواب نہیں رہا بلکہ یہ ہماری موجودہ حقیقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینکاری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیزی سے ترقی کریں، عالمی معیار کو اپنائیں اور ایسی اختراعات کو قبول کریں جو شمولیت اور مسابقت کو فروغ دیں۔
جمیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی مالیاتی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس کی بنیاد مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، فائیو جی کنکٹوٹی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی مؤثر پالیسی ہم آہنگی اور ایسے شراکت داری ماڈلز کے ذریعے اس رفتار کے ساتھ چلنا ہوگا جو ریگولیٹری نگرانی کو نجی شعبے کی اختراعات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں ریٹیل اور بڑی رقوم کی ادائیگیوں کے نظام میں بہتری،ڈیجیٹل بینکوں، الیکٹرانک منی اداروں اور پیمنٹ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل شامل ہے۔
گورنر نے راست کو ملک کے ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے بینکوں اور فِن ٹیک اداروں پر زور دیا کہ وہ اس نظام کے نفاذ میں تیزی لائیں اور صارفین کو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل لین دین تک زیادہ رسائی فراہم کریں۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک کی اوپن فنانس (اوپن بینکنگ)اور ای کے وائی سی فریم ورک کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جن کا مقصد صارفین کو اپنے مالیاتی ڈیٹا پر اختیار دینا اور تیسرے فریق کی اختراعات کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایس او 20022 جیسے بین الاقوامی معیارات کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے انضمام سے پاکستان کے عالمی معیشت کے ساتھ روابط مزید مستحکم ہوں گے۔
جمیل احمد نے زور دے کر کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی تنہائی میں کامیاب نہیں ہو سکتی، اس کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، جن میں ریگولیٹرز استحکام یقینی بنائیں، ٹیکنالوجی فرمیں اختراعات کریں، بینک صارفین کے اعتماد کو فروغ دیں اور پالیسی ساز واضح رہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ایک انوویشن ہب قائم کر رہا ہے اور اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے گروپ کو لانچ کر چکا ہے تاکہ اندرونِ ملک ترسیلات، اوپن بینکنگ اور مرچنٹ آن بورڈنگ کے حل آزمایا جا سکیں۔
جمیل احمد نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ تعاون، اختراع اور اعتماد پاکستان کے ڈیجیٹل مالی مستقبل کے کلیدی ستون ہوں گے۔

























Comments
Comments are closed.