برازیل : عالمی سمٹ میں مقامی باشندوں کے گھسنے پر جھڑپ ، دو سیکیورٹی اہلکار زخمی
- مظاہرین نے زمین کے حقوق کے حق میں پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے
برازیل کے شمال مشرقی علاقے بیلم میں درجنوں مقامی باشندوں نے منگل کو سی او پی 30 موسمیاتی سمٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی ، اس دوران گیٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ ہوگئی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی اقدامات کرتے ہوئے جنگلات کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
مشتعل مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی اور اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ تک رسائی کا مطالبہ کیا، جہاں دنیا کے مختلف ممالک کے ہزاروں مندوبین اس سال کے سمٹ میں شریک ہیں۔
کچھ مظاہرین نے زمین کے حقوق کے حق میں پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ہماری زمین فروخت کے لیے نہیں کی تحریر آویزاں تھی۔
تُپینمبا کمیونٹی کے رہنما ناتو نے کہا کہ ہم پیسہ نہیں کھا سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زمینیں زرعی کاروبار، تیل کی تلاش، غیر قانونی کان کنی اور غیر قانونی لکڑی کاٹنے والوں سے آزاد ہوں۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا اور میزوں سے دروازے کو بند کر دیا۔ جھڑپ کے دوران ایک اہلکار کو ویل چیئر پر لے جایا گیا جبکہ دوسرے اہلکار کو سر پر چوٹ لگی جس کے مطابق اسے بھیڑ سے پھینکا گیا ڈرم اسٹک لگا۔
بعد میں مظاہرین منتشر ہو گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مندوبین کو باہر نکلنے کی اجازت دی اور جگہ صاف ہونے تک اندر رہنے کو کہا۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ واقعے کی چھان بین جاری ہے۔

























Comments
Comments are closed.