ترکیہ میں فٹبال میچوں کے دوران سٹے بازی ، صدر کلب اور 17 ریفریز کے وارنٹ جاری
- فٹبال کے متعدد ریفری میچوں پر سٹے بازی میں ملوث پائے گئے ، تحقیقات میں انکشاف
ترک استغاثہ نے بتایا کہ انہوں نے 21 افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں، جن میں 17 ریفری اور ایک نامعلوم سپر لیگ کلب کے چیئرمین شامل ہیں۔ یہ کارروائی فٹبال میچوں پر مبینہ سٹے بازی کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
ریاستی خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق اب تک 21 میں سے 18 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل ترک فٹبال فیڈریشن (ٹی ایف ایف) نے تحقیقات کے بعد 149 ریفریوں اور اسسٹنٹ ریفریوں کو معطل کر دیا تھا۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا تھا کہ ملک کی پیشہ ورانہ لیگوں میں خدمات انجام دینے والے متعدد ریفری فٹبال میچوں پر سٹے بازی میں ملوث تھے۔
استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق 17 ریفریوں کی گرفتاری سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور میچوں کے نتائج میں ہیرا پھیری کے الزامات کے تحت کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک سپر لیگ کلب کے صدر ، ایک سابق کلب مالک اور ایک سابق ایسوسی ایشن صدر کو بھی مبینہ میچ فکسنگ کے الزامات پر حراست میں لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک شخص کے خلاف سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ آپریشن ترکیہ کے 12 شہروں میں بیک وقت انجام دیا گیا۔
ایک علیحدہ کارروائی میں ترک فٹبال فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے 149 عہدیداروں پر 8 سے 12 ماہ تک کی پابندیاں عائد کی ہیں، جو سٹے بازی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
ٹی ایف ایف کے صدر ابراہیم ہاجی عثمان اوغلو نے اس صورتحال کو ترک فٹبال میں اخلاقی بحران قرار دیا۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ترکیہ کی پیشہ ورانہ لیگوں میں خدمات انجام دینے والے 571 فعال ریفریوں میں سے 371 کے پاس سٹے بازی کے اکاؤنٹس موجود تھے اور ان میں سے 152 ریفری باقاعدگی سے جوا کھیل رہے تھے۔
ایک ریفری نے 18,227 مرتبہ شرط لگائی تھی، جبکہ 42 ریفریوں نے ایک ہزار سے زائد میچوں پر سٹے لگائے۔ اسی طرح دیگر کچھ ریفری ایک یا دو بار شرط لگانے میں ملوث پائے گئے۔




















Comments
Comments are closed.