پاکستان اور ایران نے سرحدی تجارت اور لاجسٹکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ فیصلہ ایران کی وزیر برائے سڑکیں و شہری ترقی فرزانہ صادق اور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق نئی قائم کردہ کمیٹی میں دونوں ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے اور یہ ایک ہفتے کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی خاص طور پر ان رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ دے گی جن کی وجہ سے ایرانی تجارتی ٹرکوں کو پاکستان میں داخل ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ایرانی وزیر نے وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں پاک ایران تجارت، ریلوے کنیکٹیویٹی اور علاقائی روابط کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے یقین دہانی کرائی کہ ایرانی تجارتی ٹرکوں کی کلیئرنس میں تاخیر کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی ار) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات بھی جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور ایران کو چین سمیت دیگر ممالک تک ٹرانزٹ تجارت کے لیے پاکستانی راستوں سے استفادہ کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کی بحالی خوش آئند ہے جو خطے کی ترقی پر مثبت اثر ڈالے گی۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے ایران کے ساتھ ستمبر میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے کی تجویز دی اور اعلان کیا کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین منصوبے کا جائزہ دسمبر میں لیا جائے گا۔
ادھر وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے میری ٹائم امور میں تعاون بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے روڈ سیفٹی ژاں ہنری ٹوڈ نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں سڑکوں پر حفاظت اور محفوظ سفر کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان موٹرویز پر اسپیڈ لمٹ نافذ کرنے، حادثات کے شکار افراد کے لیے فوری طبی امداد اور ایئر ایمبولینس سروس متعارف کرانے کے اقدامات کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔






















Comments
Comments are closed.