پاکستان کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سروس ٹریبونل کسی محکماتی اپیل کو صرف اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دے سکتا کہ وہ مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سروس ٹریبونل کو متعلقہ سروس قوانین اور قواعد کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خود یہ طے کرے کہ تاخیر کے جواز یا اس کی معافی کے لیے مناسب وجہ موجود ہے یا نہیں۔
یہ بینچ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا، جس میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔ عدالت نے یہ قانونی سوال زیر غور لایا کہ اگر کوئی محکماتی اپیل مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی ہو تو کیا سروس ٹریبونل اسے خود بخود ناقابلِ سماعت قرار دے سکتا ہے؟
جسٹس عائشہ ملک کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ سروس ٹریبونلز پر لازم ہے کہ وہ ہر مقدمے میں یہ جانچیں کہ آیا محکماتی اتھارٹی نے تاخیر کی معافی سے متعلق درخواست کو قانون کے مطابق نمٹایا یا نہیں، اور آیا دی گئی وضاحت مناسب یا کافی‘ وجہ کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔
عدالت نے کہا کہ صرف اس جانچ کے بعد ٹریبونل فیصلہ کرسکتا ہے کہ اپیل کو میرٹ پر سنا جائے یا نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سروس ٹریبونلز کے وہ احکامات جن میں اپیل کو محض اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا کہ محکماتی نمائندگی تاخیر سے یا قواعد کے خلاف کی گئی تھی، قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اپیل کا بنیادی مقصد محکماتی اتھارٹی کے اختیار کے استعمال کو چیلنج کرنا ہوتا ہے، خواہ وہ ابتدائی نوعیت کے معاملات جیسے تاخیر سے متعلق ہوں یا میرٹ سے۔ اس پس منظر میں، جب کوئی محکماتی اتھارٹی تاخیر کی معافی کی درخواست کو مسترد یا نظرانداز کرتی ہے، تو سروس ٹریبونل کا کردار یہی ہوتا ہے کہ وہ اس فیصلے کے جواز کا عدالتی جائزہ لے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محض یہ کہہ کر دائرہ اختیار سے انکار کر دینا کہ محکماتی اپیل مدتِ مقررہ کے بعد تھی، دراصل سروس ٹریبونل کے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سروس ٹریبونل کسی محکمے کے فیصلوں کی محض توثیق کرنے والا ادارہ نہیں، بلکہ سول سرونٹس کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم پہلا خودمختار عدالتی فورم ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اپیل ایک قانونی حق ہے، اور اسے محض مدتِ معیاد کی تکنیکی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ سروس ٹریبونل خود یہ طے نہ کرے کہ تاخیر کے لیے کوئی مناسب وجہ پیش کی گئی تھی یا نہیں۔ اس لیے اس طرح کی اپیلوں کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ ایسے تمام مقدمات متعلقہ بینچوں کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق نمٹایا جا سکے۔
تاہم، فیصلے میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ وہ مقدمات جن میں اسی نوعیت کا مسئلہ پہلے ہی زیرِ سماعت آ کر نمٹا دیا گیا ہے، یا جن کے ریویو پٹیشنز بھی طے ہو چکے ہیں، انہیں مکمل اور بند معاملات تصور کیا جائے گا اور وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.