پاکستان کے مقامی بازاروں میں اسمگل شدہ بھارتی گٹکا اور غیر قانونی چھالیہ کی بھرمار ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ یہ انکشاف ایک جامع بزنس ریکارڈر سروے میں کیا گیا ہے، جس کے مطابق کسٹمز حکام کی مبینہ ملی بھگت سے یہ کاروبار عروج پر ہے۔
ذرائع کے مطابق کسٹمز کے بعض سینئر افسران چھالیہ مافیا کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جو درآمدی دستاویزات میں ردوبدل اور کمزور نگرانی کے ذریعے کراچی سمیت مختلف شہروں میں مضرِ صحت اسمگل شدہ چھالیہ کی ترسیل کو ممکن بناتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہر ماہ 650 سے زائد کنٹینرز اسمگل کیے جاتے ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف 50 کنٹینرز درآمد ہوتے ہیں، جو انسدادِ اسمگلنگ نظام کی ناکامی اور مبینہ کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے۔
سروے میں انکشاف ہوا کہ کراچی میں 14 بڑی اور تقریباً 200 چھوٹی سپاری فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، مگر صرف ایک فیکٹری ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہے اور وہ بھی کئی ماہ سے ’صفر‘ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کرا رہی ہے۔ دیگر تمام بڑی فیکٹریاں غیر رجسٹرڈ ہیں، حالانکہ ان کے برانڈز شہر بھر میں عام دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان فیکٹریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے تو ایف بی آر سالانہ 20 سے 30 ارب روپے اضافی محصولات حاصل کرسکتا ہے۔
سروے کے مطابق کراچی کے چھ اضلاع میں تقریباً 3 لاکھ پان کی دکانیں موجود ہیں، جہاں روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی سپاری، گٹکا اور ماوا فروخت ہوتا ہے۔ صرف کراچی میں روزانہ تقریباً 2 لاکھ کلوگرام چھالیہ استعمال ہوتی ہے، جو ماہانہ 200 سے زائد کنٹینرز کے برابر ہے۔
ڈینٹل اسپتالوں کے سروے کے مطابق 5 لاکھ سے زائد شہری گٹکا اور ماوا کے مستقل صارف ہیں، جو روزانہ اوسطاً تین پیکٹ استعمال کرتے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چھالیہ اور گٹکا منہ کے کینسر سمیت کئی خطرناک امراض کا سبب بن رہے ہیں۔
محکمہ کسٹمز کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران قانونی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری کارروائیاں اصل اسمگلنگ کے حجم کا صرف ایک معمولی حصہ ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف چھالیہ کی اسمگلنگ سے ہر ماہ 6 ارب روپے اور سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہورہا ہے۔
سروے میں کہا گیا کہ اتنی بڑی مقدار میں چھالیہ بغیر سرکاری سرپرستی کے کراچی کی بندرگاہوں سے اندرونِ ملک منتقل نہیں ہوسکتا، جو ادارہ جاتی ناکامی یا منظم بدعنوانی کی واضح علامت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025



















Comments
Comments are closed.