پاکستان نے جاپان، امریکہ اور چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ حاصل کیا ہے، جب جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون (جے بی آئی سی) نے ریکو ڈک منصوبے کے لیے قرض فراہم کرنے والے گروپ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ پیشرفت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن ڈی سی میں امریکی، چینی اور جاپانی حکام کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی۔
جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیر خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی میں اپنی مصروفیات کے چوتھے دن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے دوران مختلف ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے گورنر جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون (جے بی آئی سی) نوبومیتسو ہایاشی سے ملاقات میں بینک کی ریکو ڈک لینڈر گروپ میں باضابطہ شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا اور جاپانی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دے گا۔
محمد اورنگزیب نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظ کو حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات پر بھی زور دیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی کانگریس چیئرمین یو ایس ہاؤس فنانشل سروسز کمیٹی مین فرینچ ہل سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مالیاتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، خصوصاً مالیاتی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، نئی معیشت، معدنی وسائل کی ترقی اور آئی ٹی شعبے میں تعاون پر زور دیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے چین کے نائب وزیر خزانہ لیاؤ من سے ملاقات میں حال ہی میں مکمل ہونے والے آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی بین الاقوامی توثیق قرار دیا۔ انہوں نے چین میں پانڈا بانڈز کے اجرا کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں رکنیت کے لیے چین کی حمایت بھی طلب کی۔
وزیر خزانہ نے چینی کمپنیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور لیاؤ من کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے اٹلانٹک کونسل میں پاکستان میں اصلاحاتی کوششیں اور درپیش چیلنجز کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اصلاحات کے پروگرام کی تفصیلات بتائیں، جسے آئی ایم ایف اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے مثبت ردعمل حاصل ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی گلوبل کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تینوں بڑی ریٹنگ ایجنسیوں کا پاکستان کے بارے میں نقطۂ نظر ہم آہنگ ہو چکا ہے۔
انہوں نے ورلڈ بینک کے زیر اہتمام ڈیجیٹل ٹیکس ایڈمنسٹریشن پر ریجنل راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کرتے ہوئے ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس وصولی 2024 میں جی ڈی پی کے 8.8 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 10.24 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے جے پی مورگن انویسٹمنٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو معیشت میں مثبت پیشرفت، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے میں استحکام سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہ بہتری پاکستان کے درست معاشی سمت میں گامزن ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔






















Comments
Comments are closed.