امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپوں سے آگاہ ہیں، اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہیں۔
انہوں نے یہ بات واشنگٹن سے اسرائیل جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی ان کی آٹھویں کامیاب کوشش ہوگی جس میں انہوں نے کسی تنازعے کا خاتمہ کیا۔
ان کے بقول، یہ میری آٹھویں جنگ ہوگی جو میں نے حل کی ہے۔ اور اب میں سن رہا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔ میں نے کہا، ‘مجھے واپس جا کر اس پر بھی کام کرنا ہوگا۔’ میں ایک اور جنگ ختم کرنے جا رہا ہوں، کیونکہ میں جنگیں ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں اچھا ہوں، اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں لاکھوں جانیں بچاتا ہوں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ سوچیں بھارت اور پاکستان کے بارے میں۔ سوچیں ان جنگوں کے بارے میں جو کئی سالوں سے جاری تھیں۔ ایک 31 سال تک چلی، ایک 32 سال، ایک 37 سال، جن میں ہر ملک میں لاکھوں لوگ مارے گئے، اور میں نے ان میں سے ہر ایک کو، زیادہ تر، ایک دن میں ختم کر دیا۔ یہ خاصا اچھا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدید جھڑپوں میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ لڑائی ہفتے کی رات اس وقت شروع ہوئی جب افغان طالبان جنگجوؤں اور ان سے منسلک عسکریت پسند گروہوں، بشمول کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے بلا اشتعال حملہ کیا۔
یہ جھڑپیں کئی علاقوں تک پھیل گئیں جن میں انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال (خیبر پختونخوا) اور بہرام چاہ (بلوچستان) شامل ہیں، جہاں براہِ راست فائرنگ اور محدود سرحد پار دراندازیاں ہوئیں۔
بیان کے مطابق شدید جھڑپوں کے دوران 23 جوانوں نے وطن کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 29 دیگر زخمی ہوئے۔
جوابی کارروائی میں پاکستانی افواج نے ہدفی حملے اور زمینی چھاپے مارے، جن میں مبینہ طور پر اہم طالبان تنصیبات تباہ ہوئیں اور 200 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں کے زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
























Comments
Comments are closed.