الیکٹرک گاڑیوں میں غیر محفوظ بیٹریوں کے استعمال کو روکا جائے، آٹوموٹیو مینوفیکچررز
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) میں غیر محفوظ اور پرانی بیٹری ٹیکنالوجیز کے استعمال کو روکا جائے۔
آٹوموٹیو ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز پر بھاری سبسڈیز خرچ کرنے سے صارفین کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے اور ملک کے ماحولیاتی اہداف میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔
بدھ کو جاری بیان میں پاما کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ای ویز پر سبسڈیز کے باوجود صارفین اب بھی ای ویز خریدنے کے لیے بڑی رقم خود ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو صارفین پر یہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ ایسی گاڑیاں خریدیں جن میں ناقص معیار کی بیٹریاں استعمال کی گئی ہیں اور جنہیں جدید ٹیکنالوجی کے نام پر فروخت کیا جارہا ہے حالانکہ یہ بیٹریاں قابل اعتماد نہیں ہیں۔
عبدالوحید خان نے کہا کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی 90 فیصد سے زائد الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں صرف لیڈ ایسڈ بیٹریوں پر مشتمل ہیں جن پر ایک پرت گرافین کوٹنگ کی گئی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔
پاما کے مطابق وفاقی حکومت نے حال ہی میں پاکستان ایکسیلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) پروگرام 2025-30 کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک ریونیو نیوٹرل اسکیم ہے جو آئی سی ای گاڑیوں پر 3 فیصد تک این ای وی لیوی سے فنڈ کی جائے گی۔
اس پروگرام کے تحت آٹو انڈسٹری کے مختلف شعبوں میں 122 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اسکیم کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ صرف وہی الیکٹرک گاڑیاں اس میں شامل ہوں گی جن میں لیتھیئم یا جدید بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہو۔
پاما نے کہا کہ عالمی سطح پر لیتھیئم آئن بیٹریاں اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی اور معیار کے لیے جانی جاتی ہیں تاہم پاکستان میں زیادہ تر الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں میں بظاہر گرافین کوٹڈ لیڈ ایسڈ بیٹریاں استعمال ہورہی ہیں جنہیں جھوٹے طور پر ایڈوانسڈ گرافین بیٹریاں کے نام پر فروخت کیا جارہا ہے حالانکہ ایسی مصنوعات دنیا میں کہیں بھی تجارتی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
عبدالوحید خان نے بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی مقامی صنعت کار ان بیٹریوں پر 24 ماہ سے زیادہ وارنٹی نہیں دیتا جبکہ لیتھیئم بیٹریوں پر عام طور پر پانچ سال یا اس سے زیادہ کی وارنٹی فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض مفاد پرست عناصر عالمی سطح پر ای وی کی پیداوار کے اعدادوشمار کو مسخ کر کے گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔
عبدالوحید خان نے شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔ ایسی غلط معلومات مقامی آٹو انڈسٹری اور صارفین دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان حربوں کے آگے نہ جھکے اور یقینی بنائے کہ قومی وسائل صرف ثابت شدہ اور محفوظ بیٹری ٹیکنالوجیز پر خرچ کیے جائیں۔

























Comments
Comments are closed.