BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.01%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
CNERGY 13.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
DFML 16.66 Increased By ▲ 0.76 (4.78%)
DGKC 192.20 Decreased By ▼ -0.25 (-0.13%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
FFL 14.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 19.36 Decreased By ▼ -0.20 (-1.02%)
HBL 306.89 Increased By ▲ 0.79 (0.26%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.75 Decreased By ▼ -2.16 (-0.95%)
PRL 93.10 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.55 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

وفاقی وزیر برائے توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں نے زرعی زمین کے بڑے حصے کو برباد کر دیا ہے، کپاس، گندم اور دیگر فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کو شدید نقصانات کا سامنا ہے۔

آج نیوز ٹی وی کے پروگرام نیوز انسائٹ میں عامر ضیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح کسانوں کو معاوضہ دینا اور انہیں آئندہ فصل کے سیزن کی تیاری کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فصلوں کے اہداف پورے نہ ہوئے تو معیشت کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اصل بحران زرعی پیداوار کا ہے، اور اگر اگلی فصل کو محفوظ نہ بنایا گیا تو نقصانات کا سلسلہ مزید گہرا ہو جائے گا۔ ان کے مطابق، حل من مانی قیمتوں میں نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاہم ابھی حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے بیرونی قرضوں پر بھی دباؤ بڑھے گا اور برآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ وفاقی ہنگامی فنڈ کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جن میں سے کچھ خرچ ہو چکے ہیں، تاہم باقی رقم ریلیف کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی طرح 700 ارب روپے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے رکھے گئے ہیں، انہیں بھی بحالی اور کسانوں کی معاونت کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہنگامی فنڈ کا محتاط اور دانشمندانہ استعمال ضروری ہے، جبکہ سماجی تحفظ بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے۔

مالی استحکام کے حوالے سے انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے اور آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری کو ناگزیر قرار دیا۔ کیش ٹرانسفر پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ براہِ راست امداد مؤثر طریقہ ہے لیکن یہ عارضی ہونی چاہیے، کیونکہ لوگوں کو آخرکار اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔

توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے اعتراف کیا کہ غیر ضروری بجلی پیداوار گلے کا پھندا بن چکی ہے لیکن اصلاحی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جلد بجلی کے حوالے سے خوشخبری دی جائے گی کیونکہ حکومت معاہدوں کو متوازن کر کے نظام کو بہتر طور پر چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.