جنگ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے تقریباً 45 بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے دھمکی آمیز حربوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھے گا۔ اس فلوٹیلا میں سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ اور نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا بھی شامل ہیں۔
منتظمین جنہوں نے اپنے گروپ کو گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا ہے نے کہا کہ آج صبح سویرے اسرائیلی بحری افواج نے انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے ایک کارروائی شروع کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایک اسرائیلی جنگی جہاز نے ان کے ایک اہم جہاز الما اور پھر سیریس کو جارحانہ انداز میں گھیرا اور اس کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا۔ سیریس پر سوار ایک فرانسیسی قانون ساز نے فوجی گشتی کشتیوں کو بہت قریب دیکھا۔
یہ فلوٹیلا گزشتہ ماہ اسپین سے روانہ ہوا تھا اور تیونس میں بھی اس پر دو ڈرون حملوں کی اطلاع دی گئی تھی۔
ادھر فلوٹیلا کے قریبی علاقوں میں پہنچنے پر اسپین اور اٹلی دونوں نے زور دیا ہے کہ بحری جہاز غزہ کے ساحل پر اسرائیل کے اعلان کردہ 150 ناٹیکل میل کے ممنوعہ زون میں داخل نہ ہوں۔ دونوں ممالک جنہوں نے نگرانی کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجے تھے، اب ممنوعہ زون کی حد پر رک گئے ہیں۔ اٹلی نے فلوٹیلا کو ریڈیو پیغام بھیجا کہ وہ ابھی رک جائیں۔
تاہم فلوٹیلا نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی دھمکیوں سے بے خوف ہیں اور اپنا سفر جاری رکھیں گے، جبکہ اسپین اور اٹلی کے فیصلے کو اپنی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

























Comments
Comments are closed.