اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور غزہ پٹی پر شدید حملے جاری رکھتے ہوئے ہفتے کے روز 60 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں زیرِ زمین سرنگیں اور بارودی ڈھانچے تباہ کیے گئے جبکہ کئی رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب آسٹریلیا، بیلجیم، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دس ممالک پیر کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے والے ہیں۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل عالمی دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں غزہ سٹی کے مشرقی مضافات میں اپنی موجودگی مستحکم کی ہے اور شیخ رضوان و تل الحوا کے علاقوں پر بمباری تیز کر دی ہے، جہاں بڑی تعداد میں شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20 بلند و بالا عمارتیں گرائی جا چکی ہیں۔ فوجی اندازوں میں کہا گیا کہ پانچ لاکھ سے زائد افراد شہر چھوڑ چکے ہیں، تاہم حماس کے مطابق یہ تعداد تین لاکھ سے بھی کم ہے اور نو لاکھ کے قریب لوگ اب بھی شہر میں موجود ہیں۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں سے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 11 اگست سے اب تک 1,800 سے زائد رہائشی عمارتیں اور 13 ہزار سے زیادہ خیمے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔
تقریباً دو برسوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے 65 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل بھوک اور انسانی بحران کو مبالغہ قرار دیتا ہے، جب کہ حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی حمایت یافتہ جرائم پیشہ گروہ امدادی قافلوں پر حملے کر رہے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.