ویتنام کے سفیر برائے پاکستان فام انہ توان نے کہا ہے کہ ویتنام پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ معاشی تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے اور دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو۔
وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایل سی سی آئی کے صدر میاں ابوزر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور ویتنام کے اعزازی قونصل رضوان فرید نے بھی خطاب کیا، جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سید سلمان علی، کرامت علی اعوان، محمد عمران سلیمی اور وقاص اسلم بھی موجود تھے۔
سفیر فام انہ توان نے بتایا کہ جولائی 2025 میں ہنوئی میں منعقدہ پانچویں جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے 2025 میں پی ٹی اے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ خوش آئند ہے۔ دو طرفہ تجارت کا حجم 2024 میں 850 ملین ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور 2025 میں اس کے ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان 53 سال قبل سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا تعاون سیاست، تجارت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں پھیل چکا ہے۔
اس موقع پر ایل سی سی آئی کے صدر میاں ابوزر شاد نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور ویتنام دیرینہ تجارتی شراکت دار ہیں لیکن دو طرفہ تجارت کی اصل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2023-24 میں پاکستان کی ویتنام کو برآمدات 357 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 285 ملین ڈالر تھیں۔ تاہم 2024-25 میں برآمدات کم ہو کر 227 ملین ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 374 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو دو طرفہ تجارت کم از کم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے، جو بہتر مارکیٹ ایکسیس کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں آپ کی رہنمائی اور تعاون درکار ہے۔
میاں ابوزر نے ویتنام کی شاندار تجارتی کارکردگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 2024 میں اس کی عالمی برآمدات تقریباً 520 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات 382 ارب ڈالر رہیں، جس نے ویتنام کو خطے کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی طویل عرصے سے جاری تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے اور ویتنام کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ویتنام کو کلیدی برآمدات میں مکئی، کاٹن فیبرکس، چمڑا اور کاٹن یارن شامل ہیں، جبکہ ویتنام پاکستان کو الیکٹرانک آلات، سنتھیٹک یارن، قدرتی ربر اور چائے برآمد کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی برآمدی مصنوعات کو متنوع بنانا ہوگا اور نئی مصنوعات جیسے سی فوڈ، پروسیسڈ گوشت، دواسازی، پھل و سبزیاں کو ہدف بنانا چاہیے، ساتھ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
ایل سی سی آئی کے سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام، جو آسیان کا ایک اہم رکن ہے، پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کو مستقبل میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے امکان پر بھی غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ دونوں ممالک کے کمرشل سیکشنز کو مارکیٹ انٹیلی جنس اور سروے رپورٹس اپنے متعلقہ چیمبرز آف کامرس کے ساتھ باقاعدگی سے شیئر کرنی چاہئیں تاکہ تجارتی سہولت کاری کو بہتر بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.