پاکستان کی نازک معیشت کو ایک اور دھچکا لگا ہے کیونکہ تباہ کن 2025 مون سون سیلاب نے تقریباً 2 ارب ڈالر کے نقصانات پہنچائے ہیں، جس سے افراطِ زر میں اضافے، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور مالی مشکلات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
جے ایس ریسرچ کے مطابق جون، جولائی اور اگست میں ہونے والی بارشیں موسمی اوسط سے زیادہ رہی ہیں۔ تاہم، محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ 2022 کے مقابلے میں اس سال کم از کم 33 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، اس لیے موجودہ صورتحال اُس پیمانے کی نہیں ہے۔
ریسرچ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ کپاس، چاول، گنے، مکئی اور گندم کو پہنچنے والے نقصانات غذائی سپلائی میں شدید رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے افراطِ زر پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خوراک کی مہنگائی میں اضافے سے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراطِ زر کی شرح 6.5 فیصد کے بجائے 7.5 تا 8 فیصد تک جا سکتی ہے۔
کپاس اور چاول کی برآمدات میں کمی جبکہ گندم اور کپاس کی درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.8 ارب ڈالر بڑھنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو بھی ریلیف اور بحالی پر زیادہ اخراجات کرنے پڑ سکتے ہیں، جو پہلے ہی سخت آئی ایم ایف شرائط کے باعث مشکل میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھاد، ٹریکٹر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شعبے شدید متاثر ہوں گے۔ اس کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سیلاب کے اثرات کو نظرانداز کیا ہے اور کے ایس ای-100 انڈیکس 156,000 پوائنٹس سے اوپر چلا گیا ہے، جس سے مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی مزاحمت ظاہر ہوتی ہے۔
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) بھی ممکنہ طور پر محتاط رویہ اپنائے گی اور ستمبر 2025 کے اجلاس میں شرح سود کم کرنے کے بجائے وقفہ دے سکتی ہے، حالانکہ سال کے آخر تک 50 تا 100 بیس پوائنٹس کٹ کی گنجائش موجود ہے۔

























Comments
Comments are closed.