پاکستان اور امریکہ کے اہم معدنیات میں تعاون بڑھانے کیلئے 500 ملین ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور امریکی اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے
پاکستان اور امریکہ نے پانچ سو ملین ڈالر مالیت کا ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں تاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشی اور تزویراتی تعلقات کی جانب ایک قدم ہے۔
امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ ایم او یو پیر کے روز وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) کے درمیان طے پایا۔
امریکی اسٹریٹجک میٹلز کے وفد، جس کے ہمراہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ایکٹنگ ڈپٹی چیف آف مشن زیک ہارکن رائیڈر بھی تھے، نے پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں ناتالی بیکر، قائم مقام ناظم الامور، نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ پاک امریکہ تعلقات کی مضبوطی کی ایک اور مثال ہے، جس کے ثمرات دونوں ممالک کو حاصل ہوں گے۔
امریکی ریاست میسوری میں قائم یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) اہم معدنیات کی پیداوار اور ری سائیکلنگ پر توجہ مرکوز رکھتی ہے، جنہیں امریکی محکمہ توانائی نے جدید مینوفیکچرنگ اور توانائی کی پیداوار سے وابستہ مختلف ٹیکنالوجیز کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایسے دوطرفہ معاہدوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ناتالی بیکر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس طرح کے معاہدوں کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے کیونکہ اہم معدنی وسائل امریکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں امریکی کمپنیوں اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں مزید معاہدوں کی توقع ہے۔
بعد ازاں وزیرِاعظم ہاؤس (پی ایم او) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد، جس میں یو ایس ایس ایم (امریکہ اسٹریٹجک میٹلز) اور موٹا اینگل، جو معدنیات اور انفرااسٹرکچر کے شعبے میں عالمی شہرت یافتہ کمپنیاں ہیں، نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔
پی ایم او کے مطابق یہ وفد پاکستان میں کان کنی کی سرگرمیوں کے توسیعی مواقع تلاش کرنے اور معدنی وسائل میں ویلیو ایڈیشن کے امکانات کے ساتھ ساتھ معاون انفرااسٹرکچر کی ترقی کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

وفد نے وزیرِاعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیرِ پیٹرولیم اور وزیرِ تجارت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر بشمول تانبہ، سونا اور نایاب ارضی عناصر پر بریفنگ دی گئی۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق ’’دورہ کرنے والی کمپنیوں نے ملک کے اندر ویلیو ایڈیشن کی سہولتیں قائم کرنے، معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے اور کان کنی کے شعبے سے منسلک بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر منصوبے تیار کرنے میں سرمایہ کاری کی آمادگی ظاہر کی ہے۔‘‘
دونوں حکومتوں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے جو نایاب ارضی عناصر (آر ای ایز) سمیت اہم معدنیات کی ترقی و پروسیسنگ اور لاجسٹک خدمات پر مرکوز ہیں۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، جو پاکستان کی سب سے بڑی اہم معدنیات کی کان کن کمپنی ہے، نے امریکہ کی اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم ) کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کمپنی سینٹ لوئس، مسوری میں قائم ہے اور پروسیسنگ، ری سائیکلنگ اور کان کنی میں عالمی مقام رکھتی ہے۔
بیان کے مطابق ’’یہ معاہدہ دفاع، فضائیہ اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے ناگزیر اہم معدنیات میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔‘‘
تفصیلات کے مطابق یہ شراکت داری فوری طور پر پاکستان سے دستیاب معدنیات بشمول اینٹیمونی، تانبا، سونا، ٹنگسٹن اور نایاب ارضی عناصر کی برآمدات سے شروع ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ تعاون پاکستان میں یو ایس ایس ایم کی ملکیتی، انتہائی لچکدار کثیر دھاتی ریفائنری کے قیام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ ریفائنری درمیانی اور تیار شدہ مصنوعات تیار کرے گی جو امریکی مارکیٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کریں گی۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے اہم معدنیات کے شعبے میں متوقع ہے۔‘‘
مزید کہا گیا کہ یہ تعاون پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے اور پائیدار ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع کے لیے نئے دروازے کھولتا ہے۔
بیان کے مطابق ’’ایم او یو کے آئندہ کے مراحل میں پاکستان کے وسیع وسائل کے مکمل امکانات کو تلاش کرنے کے لیے مخصوص ٹیمیں تشکیل دینا، فوری برآمد کے لیے اہم معدنیات کی نشاندہی کرنا اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے کان کنی، نکالنے اور پروسیسنگ میں بنیادی حیثیت قائم کرنا شامل ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ تعاون میں پائیداری، منافع بخش ہونے اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ترجیح دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
مزید یہ کہ دونوں فریق اختراعی مالیاتی اور ایک سے زائد ڈیجیٹل حل کا بھی جائزہ لیں گے جیسے کہ اہم معدنیات کی ٹوکنائزیشن، جس سے عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معدنی دولت میں شراکت کر سکیں گے اور شعبے میں شفافیت، لیکویڈیٹی اور ویلیو کریشن کو مزید تیز کیا جا سکے گا۔‘‘
اسی طرح پاکستان کی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن ( این ایل سی) نے موٹا اینگل گروپ، جو انجینئرنگ اور تعمیرات میں عالمی رہنما ہے، کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق ’’پاکستان میں مواقع کے موجودہ سروے کا مقصد ایسے ترجیحی بازاروں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں موٹا اینگل حکومت کے وژن اور نجی شعبے کی اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔ گروپ طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے جس سے اپنی عالمی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی طور پر روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کے ذریعے قدر پیدا کی جا سکے۔‘‘
گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اہم معدنیات اور ہائیڈروکاربنز کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ بیان پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں سامنے آیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور اسلام آباد نے ایک تجارتی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا تھا، جس کے تحت پاکستان نے توقع ظاہر کی تھی کہ اس سے ٹیرف میں کمی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
پاکستانی وزیر تجارت جام کمال کے مطابق اسلام آباد امریکی کمپنیوں کو بلوچستان میں کان کنی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے گا، جہاں انہیں مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری اور رعایتی مراعات مثلاً لیز گرانٹس فراہم کی جائیں گی۔ بلوچستان میں ریکو ڈک سمیت کئی بڑے معدنیاتی منصوبے موجود ہیں، جسے بیرک گولڈ چلا رہی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹرمپ نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا سہرا اپنے سر باندھا تھا، جب اپریل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔






















Comments
Comments are closed.