پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) کے معاملات پر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور وزیرِاعظم آفس کے درمیان کمپنی کے بورڈ میں وزیرِاعظم کے اسپیشل سیکریٹری شکیل منگنیجو کے کردار پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ شکیل منگنیجو نے وزیرِ تجارت کے خط کے بعد بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ تجارت چین کے دورے کے بعد وزیرِاعظم سے پی آر سی ایل اور نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کے امور پر ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ایس ای سی پی نے سیکریٹری پی آر سی ایل کو خط لکھ کر وضاحتیں اور دستاویزات طلب کی ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ 1997 کے ایکٹ اور 2000 کے انشورنس آرڈیننس کے تحت کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر فرمان اللہ زَرقون کی تعیناتی اور طرزِ عمل سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایس ای سی پی نے پوچھا ہے کہ آیا بورڈ نے 17 مئی 2025 کو ہونے والے اجلاس کی قرارداد کے مطابق وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون و انصاف سے رابطہ کیا یا نہیں، اور اگر نہیں کیا تو فوری طور پر کرے۔ اس کے علاوہ 2019، 2020 اور 2021 میں چیف ایگزیکٹو کی بھرتی کے لیے دیے گئے اشتہارات، ایس پی پی ایس۔III سکیل کی منظوری سے متعلق خطوط، فرمان اللہ زرقون کی ڈگریوں کی تصدیق، اور امیدواروں کی جانچ پڑتال کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
کمیشن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے 11 نومبر 2020 کو واضح کیا تھا کہ ایس پی پی ایس پیکیج آل اِنکلوژِو ہوگا اور اضافی مراعات نہیں دی جا سکتیں، لیکن اس کے باوجود بورڈ نے 2022 میں سی ای او کے لیے دس سالانہ بونس سمیت اضافی فوائد منظور کر لیے۔ اسی طرح 2023 میں سی ای او کی تنخواہ میں ردوبدل کرتے وقت وزارتِ قانون سے رائے لینے کی قرارداد کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
ایس ای سی پی نے زور دیا ہے کہ سی ای او کی تقرری کارکردگی پر مبنی معاہدے کے تحت ہونا لازمی تھا، لیکن پی آر سی ایل نے اس شرط کو پورا نہیں کیا۔ مزید یہ کہ سابق سی ای او کو بورڈ نے قائم مقام سی ای او تعینات کیا، حالانکہ یہ اختیار وفاقی حکومت کا تھا۔
کمیشن نے 2021 تا 2025 کے دوران بورڈ اور کمیٹیوں کے اجلاسوں کی تفصیلات، ڈائریکٹرز اور سی ای او کو دی جانے والی فیس اور بیرون ملک اجلاسوں کی منظوری سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.