امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت صنعتی برآمدات، جیسے نکل، سونا اور دیگر دھاتیں، ادویاتی اجزا اور کیمیکلز، پر تجارتی معاہدے کرنے والے شراکت دار ممالک کو پیر سے ہی بعض محصولات میں چھوٹ دی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ اپنے عہدہ صدارت کے ابتدائی سات ماہ میں محصولات میں بڑے اضافے کے ذریعے عالمی تجارتی نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے، امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے اور شراکت دار ممالک سے رعایتیں لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ان کا تازہ ترین حکم نامہ 45 سے زائد کیٹیگریز کی نشاندہی کرتا ہے، جن پر ”ہم خیال شراکت داروں“ سے طے پانے والے فریم ورک معاہدوں کے نتیجے میں درآمدی محصولات صفر کیے جا سکیں گے، بشرطیکہ یہ ممالک ٹرمپ کے عائد کردہ ”جوابی“ ٹیرف اور سیکشن 232 کے تحت قومی سلامتی کی بنیاد پر لگائی گئی ڈیوٹیز میں کمی پر رضامند ہوں۔
جمعے کو جاری ہونے والے اس حکم نامے کے تحت امریکی محصولات کو موجودہ فریم ورک معاہدوں کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا ہے، جن میں جاپان اور یورپی یونین جیسے اتحادی بھی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق امریکی تجارتی معاہدوں والے ممالک کے لیے یہ چھوٹ پیر کی رات 12 بج کر ایک منٹ (ای ڈی ٹی) / 0401 جی ایم ٹی سے نافذ العمل ہو گی۔
اس حکم نامے میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ محصولات میں نرمی ان کے شراکت دار ملک کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ”باہمی تجارت“ کے معاہدے میں کی جانے والی وعدوں کی وسعت اور اقتصادی قدر، اور امریکی قومی مفادات پر منحصر ہو گی۔
ان تخفیفات میں وہ اشیاء شامل ہیں جو ”امریکہ میں کاشت، کان کنی یا قدرتی طور پر پیدا نہیں کی جا سکتیں“ یا پھر مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی مقدار میں دستیاب ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اس حکم نامے میں زرعی مصنوعات، طیارے اور ان کے پرزہ جات، اور دوا سازی میں استعمال ہونے والی غیر پیٹنٹ شدہ اشیاء کے لیے بھی نئی گنجائشیں پیدا کی گئی ہیں۔
ایسے معاملات میں جہاں کوئی ملک امریکہ کے ساتھ ”باہمی“ تجارتی معاہدہ کر لیتا ہے، یہ حکم امریکی تجارتی نمائندے، محکمۂ تجارت اور کسٹمز کو اجازت دیتا ہے کہ وہ متعلقہ درآمدات پر محصولات معاف کر سکیں، بغیر اس کے کہ صدر کو کوئی نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنا پڑے۔
صفر محصول والی اشیاء میں گریفائٹ اور نکل کی مختلف اقسام شامل ہیں، جو اسٹین لیس اسٹیل کی تیاری اور برقی گاڑیوں کی بیٹریوں میں بنیادی جزو ہیں۔
اس کے علاوہ ان مرکبات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو عام دواؤں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے بے ہوشی کی دوا لیڈوکین اور میڈیکل تشخیصی ٹیسٹوں میں استعمال ہونے والے ری ایجنٹس۔
یہ حکم سونے کی درآمدات کی مختلف اقسام کو بھی محیط ہے، جیسے پاؤڈر، ورق اور بلین (Bullion)۔ سونے کی یہ بڑی درآمدات سوئٹزرلینڈ سے آتی ہیں، جو اس وقت 39 فیصد امریکی محصولات سے دوچار ہے کیونکہ اس نے ابھی تک کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کیا۔
مزید برآں اس حکم کے تحت قدرتی گریفائٹ، نیوڈیمیم میگنیٹس، ایل ای ڈیز (LEDs) پر ٹیرف ختم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ پلاسٹک کی کچھ اقسام اور پولی سلیکون (جو سولر پینلز کا اہم جزو ہے) پر دی گئی پرانی رعایتیں واپس لے لی گئی ہیں۔




















Comments
Comments are closed.