BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)

اے ڈی پورٹس گروپ نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے ٹی جی ایل) اور نیدرلینڈز کی میرین کنٹریکٹر وین اوورڈ کے درمیان ڈریجنگ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد کراچی پورٹ کو مضبوط اور جدید علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔

اس منصوبے کی قیادت اے ڈی پورٹس کے بین الاقوامی پورٹس ونگ، نوٹم پورٹس کرے گا، جو کے ٹی جی ایل میں برتھز اور نیویگیشنل چینلز کو گہرا کرے گا جس سے کنٹینر ٹرمینل 13,000 ٹی ای یوز سے زائد کی پوسٹ-پانامیکس شپنگ ہینڈل کر سکے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے جو 2026 کے آغاز میں متوقع ہے، اس سہولت کی کنٹینر ہینڈلنگ کی گنجائش 750,000 ٹی ای یوز سے بڑھ کر 1 ملین ٹی ای یوز ہوجائے گی۔

اس منصوبے کی قیادت اے ڈی پورٹس کے بین الاقوامی پورٹس ونگ، نوٹم پورٹس کرے گا جوکے ٹی جی ایل میں برتھز اور نیویگیشنل چینلز کو گہرا کرے گا، تاکہ کنٹینر ٹرمینل 13,000 ٹی ای یوز سے زائد کی پوسٹ-پانامیکس شپنگ کو ہینڈل کر سکے۔ منصوبے کی تکمیل، جو 2026 کے آغاز میں متوقع ہے کے بعد کنٹینر ہینڈلنگ کی گنجائش 750,000 ٹی ای یوز سے بڑھ کر 1 ملین ٹی ای یوز ہو جائے گی۔

کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ، جو بلک اور جنرل کارگو ہینڈلنگ کے لیے ایک متوازی جوائنٹ وینچر ہے میں ڈریجنگ سے بلک جہازوں کی صلاحیت دگنی ہو جائے گی۔ موجودہ طور پر یہ ٹرمینل تقریباً 60,000 ٹن کے ہینڈی میکس جہاز وصول کرتا ہے جبکہ اپ گریڈ کے بعد یہ پوسٹ-پانامیکس جہازوں کو 120,000 ٹن تک وصول کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس توسیع سے فریٹ اخراجات میں کمی اور پاکستان کے مصروف ترین پورٹ کی تھرو پٹ میں اضافہ متوقع ہے۔

یہ اقدام اے ڈی پورٹس گروپ کے پاکستان میں وسیع تر داخلے کا حصہ ہے جو 2023 میں شروع ہوا، جب ابو ظہبی میں قائم آپریٹر نے کراچی پورٹ میں کنٹینر اور بلک برتھز کے انتظام کے لیے طویل مدتی کنسیشنز حاصل کیے۔ گروپ نے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اقتصادی تنوع کی حمایت کے لیے انفرaاسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹمز کی جدید کاری پر تقریباً 1.1 ارب درہم کی سرمایہ کاری کا عزم کیا ہے۔

کراچی گیٹ وے ٹرمینل اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ کے سی ای او خرم عزیز خان نے کہا کہ کے جی ٹی ایل کی جانب سے شروع کردہ ڈریجنگ پروجیکٹ سے ہمیں بڑے اور گہری ڈرافٹ والے جہاز وصول کرنے میں سہولت ملے گی۔ یہ پیشرفت ہمارے صارفین کے لیے براہِ راست فائدہ مند ہوگی، فریٹ پر غیر ملکی زر مبادلہ کے استعمال کو بہتر بنائے گی اور مجموعی لاجسٹکس لاگت کو کم کرے گی۔ ساتھ ہی پاکستان کے علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر کردار کو بھی مستحکم کرے گی۔

نوٹم پورٹس کے سی ای او محمد التمیمی نے اس منصوبے کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈریجنگ پروجیکٹ محض انفرااسٹرکچر اپ گریڈ نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی لچک اور عالمی رابطوں میں اضافہ کے لیے مستقبل بین سرمایہ کاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود پاکستان اہم ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کی جدید کاری کے لیے خلیجی سرمایہ کاروں پر بڑھتی ہوئی انحصار کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مجموعی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں کمی کے باوجود، سمندری شعبہ پاکستان کی جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر اسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے سرمایہ کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.