اے ڈی پورٹس گروپ نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے ٹی جی ایل) اور نیدرلینڈز کی میرین کنٹریکٹر وین اوورڈ کے درمیان ڈریجنگ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد کراچی پورٹ کو مضبوط اور جدید علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
اس منصوبے کی قیادت اے ڈی پورٹس کے بین الاقوامی پورٹس ونگ، نوٹم پورٹس کرے گا، جو کے ٹی جی ایل میں برتھز اور نیویگیشنل چینلز کو گہرا کرے گا جس سے کنٹینر ٹرمینل 13,000 ٹی ای یوز سے زائد کی پوسٹ-پانامیکس شپنگ ہینڈل کر سکے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے جو 2026 کے آغاز میں متوقع ہے، اس سہولت کی کنٹینر ہینڈلنگ کی گنجائش 750,000 ٹی ای یوز سے بڑھ کر 1 ملین ٹی ای یوز ہوجائے گی۔
اس منصوبے کی قیادت اے ڈی پورٹس کے بین الاقوامی پورٹس ونگ، نوٹم پورٹس کرے گا جوکے ٹی جی ایل میں برتھز اور نیویگیشنل چینلز کو گہرا کرے گا، تاکہ کنٹینر ٹرمینل 13,000 ٹی ای یوز سے زائد کی پوسٹ-پانامیکس شپنگ کو ہینڈل کر سکے۔ منصوبے کی تکمیل، جو 2026 کے آغاز میں متوقع ہے کے بعد کنٹینر ہینڈلنگ کی گنجائش 750,000 ٹی ای یوز سے بڑھ کر 1 ملین ٹی ای یوز ہو جائے گی۔
کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ، جو بلک اور جنرل کارگو ہینڈلنگ کے لیے ایک متوازی جوائنٹ وینچر ہے میں ڈریجنگ سے بلک جہازوں کی صلاحیت دگنی ہو جائے گی۔ موجودہ طور پر یہ ٹرمینل تقریباً 60,000 ٹن کے ہینڈی میکس جہاز وصول کرتا ہے جبکہ اپ گریڈ کے بعد یہ پوسٹ-پانامیکس جہازوں کو 120,000 ٹن تک وصول کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس توسیع سے فریٹ اخراجات میں کمی اور پاکستان کے مصروف ترین پورٹ کی تھرو پٹ میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ اقدام اے ڈی پورٹس گروپ کے پاکستان میں وسیع تر داخلے کا حصہ ہے جو 2023 میں شروع ہوا، جب ابو ظہبی میں قائم آپریٹر نے کراچی پورٹ میں کنٹینر اور بلک برتھز کے انتظام کے لیے طویل مدتی کنسیشنز حاصل کیے۔ گروپ نے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اقتصادی تنوع کی حمایت کے لیے انفرaاسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹمز کی جدید کاری پر تقریباً 1.1 ارب درہم کی سرمایہ کاری کا عزم کیا ہے۔
کراچی گیٹ وے ٹرمینل اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ کے سی ای او خرم عزیز خان نے کہا کہ کے جی ٹی ایل کی جانب سے شروع کردہ ڈریجنگ پروجیکٹ سے ہمیں بڑے اور گہری ڈرافٹ والے جہاز وصول کرنے میں سہولت ملے گی۔ یہ پیشرفت ہمارے صارفین کے لیے براہِ راست فائدہ مند ہوگی، فریٹ پر غیر ملکی زر مبادلہ کے استعمال کو بہتر بنائے گی اور مجموعی لاجسٹکس لاگت کو کم کرے گی۔ ساتھ ہی پاکستان کے علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر کردار کو بھی مستحکم کرے گی۔
نوٹم پورٹس کے سی ای او محمد التمیمی نے اس منصوبے کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈریجنگ پروجیکٹ محض انفرااسٹرکچر اپ گریڈ نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی لچک اور عالمی رابطوں میں اضافہ کے لیے مستقبل بین سرمایہ کاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود پاکستان اہم ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کی جدید کاری کے لیے خلیجی سرمایہ کاروں پر بڑھتی ہوئی انحصار کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مجموعی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں کمی کے باوجود، سمندری شعبہ پاکستان کی جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر اسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے سرمایہ کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.