اگست کے دوران صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) سالانہ بنیاد پر 3.0 فیصد بڑھ گیا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری سیلاب کی وجہ سے خوراک کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے سبب مستقبل میں مہنگائی کے تخمینے بڑھنے کا امکان ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق، رواں مالی سال اگست میں سی پی آئی ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد کم ہوا جو جولائی میں 2.9 فیصد اضافے اور گزشتہ سال اگست میں 0.4 فیصد اضافے کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
شہری علاقوں میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 3.4 فیصد رہی جو پچھلے ماہ 4.4 فیصد اور گزشتہ سال اگست میں 11.7 فیصد تھی۔ ماہانہ یہ 0.7 فیصد کم ہوئی، جو پچھلے ماہ 3.4 فیصد اضافے اور گزشتہ سال کے اگست میں 0.3 فیصد اضافے کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے
دیہی علاقوں میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 2.4 فیصد رہی جو پچھلے ماہ 3.5 فیصد اور گزشتہ سال اگست میں 6.7 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر یہ 0.5 فیصد کم ہوئی، جو پچھلے ماہ 2.2 فیصد اضافے کے مقابلے میں کمی ہے۔
رواں سال اگست کے دوران حساس اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.6 فیصد اضافہ ہوا جو پچھلے ماہ 0.9 فیصد کمی اور گزشتہ سال اگست میں 10.8 فیصد اضافے کے مقابلے میں ہے۔ ماہانہ بنیاد پر اگست میں یہ اضافہ 3.2 فیصد رہا جو پچھلے ماہ 3.1 فیصد اور گزشتہ سال اگست میں 0.3 فیصد کمی کے مقابلے میں ہے۔
مالی سال 2025 کے اگست میں نان فوڈ اور نان انرجی شہری مہنگائی بڑھنے کی شرح سالانہ بنیاد پر 6.9 فیصد رہی جو پچھلے ماہ 7.0 فیصد اور گزشتہ سال اگست 2024 میں 10.2 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر یہ شرح اگست 2025 میں 0.3 فیصد رہی، جو پچھلے ماہ 0.8 فیصد اور گزشتہ سال اگست میں 0.4 فیصد تھی۔
اگست میں نان فوڈ اور نان انرجی دیہی مہنگائی بڑھنے کی شرح سالانہ بنیاد پر 7.8 فیصد رہی جو پچھلے ماہ 8.1 فیصد اور گزشتہ سال اگست 2025 میں 14.4 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر یہ شرح اگست 2026 میں 0.2 فیصد رہی جو پچھلے ماہ 0.7 فیصد اور گزشتہ سال اگست 2025 میں 0.6 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیاد پر اگست 2026 میں قیمتیں درج ذیل شرح سے بڑھی: ٹماٹر 19.63 فیصد، پیاز 14.38 فیصد، انڈے 12.84 فیصد، مرغی 4.16 فیصد، مکھن 3.21 فیصد، مچھلی 1.46 فیصد، گڑ 0.79 فیصد، چاول 0.73 فیصد، مصالحہ جات 0.64 فیصد، گوشت 0.41 فیصد، پاؤڈر دودھ 0.34 فیصد اور تیار شدہ کھانے 0.26 فیصد۔
دالوں کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر اگست 2026 میں اضافہ درج ذیل رہا: مونگ 2.81 فیصد، چنا (گرم) 2.16 فیصد، چنا (پلس) 2.09 فیصد، ماش 1.40 فیصد، گندم کی مصنوعات 1.31 فیصد، آٹا 1.24 فیصد، مسور 0.82 فیصد اور بیسن 0.49 فیصد۔
نان فوڈ اشیاء میں اخبارات 11.93 فیصد، اسپتال خدمات 1.71 فیصد، تعلیم 1.61 فیصد، صفائی و لانڈری 1.41 فیصد اور ڈاکٹر فیس 1.21 فیصد بڑھی۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کی قیمتیں کم رہیں، جیسے مائع ہائیڈروکاربن 7.30 فیصد، بجلی 6.87 فیصد، موٹر فیول 1.51 فیصد اور ٹرانسپورٹ خدمات 0.71 فیصد کم ہوئیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ صارف قیمتوں کے اشاریے میں خوراک اور نان الکوحل مشروبات کا وزن 40 فیصد ہے، اس لیے سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی آفات کی وجہ سے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے دی گئی 7.5 فیصد اور 5-7 فیصد کی افراطِ زر کی پیش گوئی کے حد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
جاری سیلاب کی وجہ سے سبزیوں، چاول اور مکئی کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سپلائی میں خلل کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں 25 سے 100 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق سالانہ بنیاد پر صارف قیمتوں میں اضافہ اگست میں 3.0 فیصد رہ گیا، جو جولائی کے 4.1 فیصد سے کم ہے، تاہم معیشت دانوں نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب میں جاری سیلاب کے ہفتوں کے اثرات خوراک کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.