پاکستان ہمسایہ ممالک سے مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے، وزیرِاعظم
- جعفر ایکسپریس ٹرین واقعے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں متعدد دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، شہباز شریف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے تمام زیرِ التوا تنازعات پر بات چیت کے لیے جامع اور منظم مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پڑوسی ممالک سے تعلقات کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کا خواہاں ہے اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
وزیرِاعظم نے 31 اگست تا یکم ستمبر 2025 تیانجن، چین میں صدر شی جن پنگ کی صدارت میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کونسل اور ایس سی او پلس اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔
اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کے اصولوں،باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے ساتھ پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرتا ہے اور امید ظاہر کی کہ تمام رکن ممالک بھی ان اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ انہوں نے موجودہ معاہدوں کے تحت پانی کے جائز حصے تک بلا رکاوٹ رسائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیرِاعظم نے ہر قسم کی دہشت گردی، بشمول ریاستی دہشت گردی، کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس ٹرین واقعے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں متعدد دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
وزیرِاعظم نے حکومت کے معاشی تبدیلی کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا ۔
انہوں نے اسرائیل کی غزہ کے خلاف غیر انسانی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور ایس سی او کے رکن ملک ایران پر حملے کی بھی مذمت کی۔
افغانستان میں عدم استحکام کے پورے ایس سی او خطے پر منفی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان کے ساتھ بامعنی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
ساتھ ہی ایس سی او کے خطے کو جوڑنے اور معاشی انضمام کے وژن کو سراہتے ہوئے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کو مثالی تجارتی و ٹرانزٹ مرکز قرار دیا اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کو بین الاقوامی معاشی و تجارتی انضمام کے لیے کلیدی منصوبہ قرار دیا۔
سربراہانِ مملکت کونسل میں خطے اور عالمی سطح کے اہم اسٹریٹجک سیاسی، سلامتی اور معاشی مسائل، چیلنجز اور پیش رفت پر غور کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.