انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا ۔
پیر کو کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 0.01 فیصد یا 2 پیسے کی بہتری سے 281.75 روپے پر بند ہوا ، یہ مسلسل 17 واں روز ہے جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ڈالر کا انٹربینک ریٹ 0.13 روپے یا 0.05 فیصد کی بہتری سے 281.77 پرجاپہنچا۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر پیر کو غیر یقینی کا شکار رہا کیونکہ مارکیٹیں اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار کی منتظر ہیں، جو اس ماہ کے آخر میں فیڈرل ریزرو کی متوقع شرحِ سود میں کمی کے حجم کا تعین کرسکتے ہیں۔
تاجر اب بھی جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار، عدالت کے اُس فیصلے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ بیشتر محصولات کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور امریکی صدر کی گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے کی کوشش پر فیڈ کے ساتھ جاری کشمکش کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ڈالر پیر کو ایشیائی سیشن کے ابتدائی دور میں ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 147.20 روپے پر جاپہنچا حالانکہ جمعہ کو جاپانی کرنسی کے مقابلے میں اس میں ماہانہ 2.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1693 ڈالر پر پہنچ گیا، جب کہ اسٹرلنگ 0.05 فیصد بڑھ کر 1.3510 ڈالر پر آ گیا۔ پیر کو امریکی مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کار اس ماہ کے آخر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے 25 بیسز پوائنٹس کی شرحِ سود میں کمی کے 87 فیصد امکان کو قیمتوں میں شامل کررہے ہیں۔
شرحِ سود کی توقعات کے علاوہ، ڈالر پر فیڈ کی خودمختاری سے متعلق خدشات نے بھی دباؤ ڈالا ہے کیونکہ ٹرمپ مالیاتی پالیسی پر زیادہ اثر و رسوخ ڈالنے کی اپنی مہم تیز کر رہے ہیں۔
























Comments
Comments are closed.