فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی اُس اہم سفارش پر عملدرآمد میں ناکام رہا ہے جس کی صدر آصف علی زرداری نے بھی توثیق کی تھی۔ اس سفارش کے تحت سیلز ٹیکس اور آئی ٹی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جانی تھی تاکہ آئی ٹی بیسڈ سسٹم کے ذریعے جعلی اور فلائنگ سیلز ٹیکس انوائسز کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے اور چین آڈٹ مکمل کیا جا سکے۔
یہ کیس لاہور کے ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ نے دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ایف بی آر کے افسران، وکلا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور بعض جرائم پیشہ عناصر کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو اربوں روپے سالانہ کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سنگین نوعیت کی بدعنوانی کو صرف ایک فول پروف تکنیکی نظام کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے، جس میں ریڈ الرٹس اور جامع نگرانی کا نظام شامل ہو۔
ایف ٹی او نے اپنے حکم میں کہا کہ ایف بی آر جعلی اور فلائنگ انوائسز کے مسئلے اور ایس ٹی آر اینز (سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر) کے غلط استعمال کا نوٹس لے، اور متعلقہ سپلائرز و خریداروں کو بلیک لسٹ کر کے چین آڈٹ مکمل کرے۔ ساتھ ہی 156,335 ملین روپے کے سیلز ٹیکس کے نقصان کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی بھی کی جائے۔
مزید برآں، ایف ٹی او نے واضح کیا کہ اس فراڈ میں ملوث ایف بی آر حکام کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ تاہم، ابھی تک ایف بی آر کی جانب سے عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام کا اعتماد ادارے کی شفافیت اور کارکردگی پر مزید مجروح ہو رہا ہے۔ ایف ٹی او نے ایف بی آر کو 31 اگست 2025 تک رپورٹ جمع کرانے کی مہلت دی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.