انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافے کا رجحان برقرار رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 3 پیسے یا 0.01 فیصد کی بہتری سے 281.77 پر بند ہوا، یہ مسلسل 16 واں روز ہے جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 281.80 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر جمعہ کو غیر مستحکم رہا اور اگست میں اہم کرنسیوں کے مقابلے تقریباً 2 فیصد کی کمی کے لیے تیار تھا۔ اس کی بنیادی وجہ اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کے امکانات اور امریکی مرکزی بینک کی خودمختاری کو لاحق خدشات ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مالیاتی پالیسی پر زیادہ اثرورسوخ قائم کرنے کی کوششیں جس میں فیڈرل ریزرو کی گورنر کو برطرف کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں نے ڈالر پر دباؤ ڈالا ہے۔ گورنر نے اس سلسلے میں مقدمہ دائر کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے پاس انہیں عہدے سے ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں۔
یہ قانونی جھگڑا ٹرمپ کی مرکزی بینک کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوششوں کا تازہ باب ہے، جنہوں نے بار بار فیڈرل ریزرو اور اس کے چیئرمین جیروم پاول پر سود کی شرح کم نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔
کرنسی مارکیٹس جمعہ کو محتاط انداز میں شروع ہوئیں، یورو تقریباً 1.1675 ڈالر پر مستحکم رہا۔ اسٹرلنگ کی آخری خریداری 1.3509 ڈالر پر ہوئی۔
آسٹریلین ڈالر 0.6533 ڈالر پر مستحکم رہا جو ماہانہ بنیاد پر 1.6 فیصد کے اضافے کے لیے تیار ہے۔
ڈالر انڈیکس 97.917 پر تھا اور ماہانہ بنیاد پر تقریباً 2 فیصد کمی کی جانب گامزن ہیں۔
سال بھر میں یہ انڈیکس تقریباً 10 فیصد کم ہوا ہے کیونکہ امریکی تجارتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو متبادل اثاثوں کی طرف مائل کیا ہے۔
























Comments
Comments are closed.