سپریم کورٹ نے ٹی آر جی پاکستان کے شیئرہولڈرز کے مابین تنازع کو ہتکِ عزت کے مقدمے کے ساتھ یکجا کر دیا
سپریم کورٹ میں 26 اگست کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی فہرست میں شامل کمپنی ٹی آر جی پاکستان سے متعلق شیئرہولڈرز کے تنازع پر سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے حکم دیا ہے کہ یہ مقدمہ کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ضیاء چشتی کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ہتکِ عزت کے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا جائے، جو کہ سندھ کی ماتحت عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ یہ ہتک عزت کا دعویٰ بعض ڈائریکٹرز کی جانب سے دائر اپیل سے متعلق ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس نعیم اخترافغان نے استفسار کیا کہ آیا ضیاء چشتی، جو فریقِ ثانی کے طور پر مقدمے میں شامل ہیں، وہی شخص ہیں جنہیں امریکہ میں جنسی بدسلوکی کے الزام میں کمپنی چھوڑنا پڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک اور مقدمے میں ضیاء چشتی کا یہی پسِ منظر بتایا گیا تھا، اور یہ کہ انہوں نے کمپنی سے علیحدگی کے بعد بیرونِ ملک مقیم ڈائریکٹرز کو پاکستان میں ہتکِ عزت کے مقدمات میں گھسیٹا، جن میں سندھ کی ماتحت عدالتوں سے ان کے ذاتی طور پر پیش ہونے کے سمن بھی جاری ہوئے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے اس طرزِ عمل کو پاکستان کے تشخص کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
فریقین کی جانب سے تصدیق پر کہ دونوں مقدمات میں ایک ہی فرد شامل ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے ضیاء چشتی کو روسٹرم پر آنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے بعد ازاں شیئرہولڈرز تنازع کے مقدمے کو ہتکِ عزت کے مقدمے کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس سے اس امر کی جانچ ممکن ہو گی کہ آیا ضیاء چشتی کا طرزِ عمل بدنیتی پر مبنی ہے یا نہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے اس امر پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ اس مقدمے کی فائلز، جنہیں سپریم کورٹ میں پیش کیا جانا تھا، دورانِ ترسیل چوری ہو گئیں، جس کے بعد شکایت کنندگان کو مکمل ریکارڈ دوبارہ جمع کرانا پڑا۔
دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فریقین کو ہدایت دی کہ وہ کمپنی کی کارپوریٹ اسٹرکچر میں موجود ہر قانونی ادارے کے اندر شیئرہولڈنگ کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معلومات میں اس ممکنہ تبدیلی کی عکاسی بھی ہونی چاہیے جو امریکہ میں حالیہ ثالثی فیصلے کے بعد سامنے آ سکتی ہے، جہاں ضیاء چشتی مقدمہ ہار چکے ہیں اور انہیں 9.1 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ سماعت سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کے طور پر ہو رہی تھی، جس میں جون 2025 میں ضیاء چشتی کے حق میں فیصلہ سنایا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے نہ صرف ٹی آر جی پاکستان کے سب سے بڑے شیئرہولڈر، برمودا میں رجسٹرڈ گرین ٹری ہولڈنگز (جی ٹی ایچ)، کے شیئرز منسوخ کر دیے تھے، بلکہ کمپنی میں نئے انتخابات کا حکم بھی دے دیا تھا، اور تقریباً 55 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو مکمل ہونے سے روک دیا تھا، جو جی ٹی ایچ کی جانب سے پاکستان میں پہلے سے کی گئی 90 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے علاوہ تھی۔
سپریم کورٹ نے جون 2025 کے اواخر میں ابتدائی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا تھا۔
ہتکِ عزت کا مقدمہ جسے اب شیئرہولڈرز تنازع کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے، دراصل ضیاء چشتی اور جہانگیر صدیقی گروپ کی جانب سے 2023 میں سندھ کی ماتحت عدالتوں، کراچی اور حیدرآباد، میں دائر کیا گیا تھا۔ ان میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ٹی آر جی کے مختلف اداروں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر سول مقدمات کے ضمن میں کیے گئے بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ فوجداری کارروائیاں سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں معطل کر دی تھیں، تاہم 2024 میں ان مقدمات کو دوبارہ ماتحت عدالتوں کو بھیج دیا گیا، جس پر کمپنی ڈائریکٹرز نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دے کر خارج کرنے کی استدعا کی۔
سپریم کورٹ نے اوائل 2025 میں ماتحت عدالتوں میں زیرِ التواء ہتکِ عزت کی کارروائیوں پر دوبارہ حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔
عدالت نے مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔




















Comments
Comments are closed.