اسٹاک ایکسچینج: ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری، 100 انڈیکس ڈیڑھ لاکھ کی سطح سے تھوڑی دوری پر بند
- ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 150,323.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا تھا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ریکارڈ پر ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے دوسرے روز شیئرز بازار نے نئی تاریخ رقم کردی، دوران ٹریڈنگ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈیڑھ لاکھ کی نئی بلند ترین سطح عبور کرگیا۔
تجارتی سیشن کے دوران مثبت رجحان برقرار رہا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 150,323.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا تھا۔
کاروبار کے اختتام پر ر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,574.32 پوائنٹس یا 1.06 فیصد اضافے سے 149,770.74 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اہم شعبوں میں خریداری کی دلچسپی دیکھی گئی جن میں آٹوموبائل اسمبلی، کمرشل بینک، سیمنٹ اور فارماسیوٹیکل شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں نے اس خریداری کے رجحان کو حکومت کی آئندہ سرکلر ڈیٹ اصلاحات سے متعلق رپورٹس کے باعث پیدا ہونے والے مارکیٹ کے اعتماد سے جوڑا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ توانائی شعبے میں لیکویڈٹی کے مسائل کم ہوں گے جو معیشت کے لیے ایک دیرینہ تشویش رہی ہے۔
پاک کویت انویسٹمنٹ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ خریداری کا رجحان مستقبل میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ مضبوط کارپوریٹ نتائج، متوقع سے بہتر معاشی کارکردگی و دیگر متبادل اثاثوں سے کم منافع مارکیٹ کے رجحان کو فروغ دے رہے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے ایک نوٹ میں کہا کہ معاشی حالات میں بہتری، پرکشش قیمتیں اور ڈالرائزیشن کے خلاف اقدامات نے حصص کو ترجیحی اثاثہ کلاس کے طور پر پیش کیا ہے۔
بروکریج نے بتایا کہ ملکی لیکویڈٹی جو نئے فنڈز اور فکسڈ انکم کی منتقلی سے بڑھ رہی ہے قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے مزید کہا کہ مالی سال 26 میں منافع کی نمو 9.2 فیصد متوقع ہے جس کی قیادت بینکوں، سیمنٹ، او ایم سیز، پاور ٹیکنالوجی اور کیمیکلز کر رہے ہیں۔

ہیڈ آف ریسرچ جے ایس گلوبل وقاص غنی نے ریکارڈ تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مضبوطی، بہتر ہوتے میکرو اکنامک بنیادی عوامل اور واضح پالیسیوں سے منسوب کی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو سراہا اور حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرنے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو گیا ہے۔ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، لیکن مزید کوشش کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اہم جھلکیاں شیئر کیں۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ اور شناختیں، ملکی سطح پر شروع کیے گئے ساختی اصلاحاتی ایجنڈے اور مثبت معاشی منظرنامہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مضبوط تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔
شیئرز کی مجموعی مالیت 39.17 ارب روپے سے بڑھ کر 48.43 ارب روپے ہو گئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام لین دین کے لحاظ سے سب سے آگے رہی جس کے 52.32 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے اس کے بعد بی اوپنجاب کے 46.06 ملین اور فوجی سیمنٹ کے 43.73 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے۔
مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 265 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 194 میں کمی اور 24 میں استحکام رہا۔
یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 148,196.42 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص اور تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، یہ کمی مرکزی بینکوں کے اہم اجلاس سے قبل اور روس و یوکرین کے درمیان دشمنی کے خاتمے سے متعلق مثبت سفارتی اشاروں کے جائزے کے دوران ریکارڈ کی گئی۔
یورپی حصص کی فیوچر مارکیٹ میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد ان کے ملک کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کا معاملہ ممکنہ طور پر 10 دن کے اندر طے پا جائے گا۔
جاپان کے نکئی انڈیکس نے دن کے دوران ایک نیا ریکارڈ قائم کیا لیکن بعد میں نیچے آ گیا۔ امریکی ڈالر نے گزشتہ سیشن کے منافع کو برقرار رکھا کیونکہ تاجر فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق اشاروں کے منتظر تھے جو جیکسن ہول، وائومنگ میں ہونے والے سالانہ اجلاس سے قبل متوقع ہیں۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع ترین انڈیکس میں ابتدائی کاروبار کے دوران 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ امریکی حصص گزشتہ سیشن میں معمولی کمی پر بند ہوئے۔
پین ریجن یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جرمن ڈیکس فیوچرز 0.2 فیصد بڑھے اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں بھی 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔



















Comments
Comments are closed.