BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 55.71 Increased By ▲ 0.20 (0.36%)
BIPL 23.52 Decreased By ▼ -0.45 (-1.88%)
BOP 27.22 Decreased By ▼ -0.08 (-0.29%)
CNERGY 12.30 Decreased By ▼ -0.10 (-0.81%)
DFML 16.06 Increased By ▲ 0.27 (1.71%)
DGKC 181.44 Increased By ▲ 5.86 (3.34%)
FABL 89.74 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
FCCL 51.61 Increased By ▲ 1.96 (3.95%)
FFL 13.08 Decreased By ▼ -0.28 (-2.1%)
GGL 19.05 Increased By ▲ 0.36 (1.93%)
HBL 282.12 Decreased By ▼ -1.14 (-0.4%)
HUBC 188.31 Increased By ▲ 0.45 (0.24%)
HUMNL 8.06 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
KEL 5.65 Increased By ▲ 0.10 (1.8%)
LOTCHEM 22.51 Decreased By ▼ -0.53 (-2.3%)
MLCF 88.83 Increased By ▲ 2.20 (2.54%)
OGDC 300.92 Increased By ▲ 2.80 (0.94%)
PAEL 32.40 Increased By ▲ 0.35 (1.09%)
PIBTL 12.89 Increased By ▲ 0.34 (2.71%)
PIOC 227.28 Increased By ▲ 3.11 (1.39%)
PPL 212.36 Increased By ▲ 2.19 (1.04%)
PRL 95.71 Increased By ▲ 1.19 (1.26%)
SNGP 89.73 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
SSGC 22.53 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 6.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.65%)
TPLP 11.51 No Change ▼ 0.00 (0%)
TRG 53.68 Increased By ▲ 1.14 (2.17%)
UNITY 7.70 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.88 Decreased By ▼ -0.01 (-1.12%)

عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ نے روس پر مزید دباؤ ڈالنے یا اس کی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے کوئی اضافی اقدام نہیں اٹھایا۔ دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کو مزید سخت اقدامات کی توقع تھی لیکن صورتحال برعکس رہی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 26 سینٹ یا 0.39 فیصد کمی سے 65.59 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 18 سینٹ کمی کے بعد 62.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے الاسکا میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنما جنگ بندی کے بجائے براہِ راست امن معاہدے کی طرف مائل نظر آئے۔ ٹرمپ نے پیر کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرنا تھی تاکہ تیزی سے امن معاہدے پر بات آگے بڑھائی جا سکے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ فی الحال چین جیسے ممالک پر جو روسی تیل خرید رہے ہیں، اضافی ٹیرف لگانے کی فوری ضرورت نہیں، تاہم آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اس پر غور ہوسکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد روسی سپلائی میں خلل کے خدشات وقتی طور پر ٹل گئے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ اور روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔

آر بی سی کیپٹل کی ماہر ہیلیما کروفٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے پر فی الحال چین کے خلاف مزید اقدامات روک دیے ہیں، اس لیے صورتحال جوں کی توں ہے۔ تاہم ماسکو علاقوں پر دعوے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ یوکرین اور کچھ یورپی ممالک زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی نہیں۔

ادھر سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کی جیکسن ہول اجلاس میں تقریر کا انتظار کر رہے ہیں جس سے ستمبر میں شرح سود میں ممکنہ کمی کے بارے میں اشارے مل سکتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.