فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین امریکہ کو اپنے ڈیجیٹل قوانین کو نشانہ بنانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ دونوں فریق گزشتہ ماہ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے باضابطہ اعلامیے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ نان ٹیرف رکاوٹوں سے متعلق زبان پر اختلافات، جن میں امریکہ کے مطابق ڈیجیٹل قوانین بھی شامل ہیں، اعلامیہ میں تاخیر کی اہم وجہ ہیں۔ یورپی یونین، وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ اعلامیہ دراصل جولائی میں یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے چند دن بعد متوقع تھا۔ اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی زیادہ تر مصنوعات پر 15 فیصد درآمدی ٹیرف لگایا گیا، جو ابتدائی طور پر اعلان کردہ شرح کا نصف تھا۔ اس اقدام نے دونوں اتحادیوں کے درمیان وسیع تجارتی جنگ کو ٹالنے میں مدد دی، جو دنیا کی تقریباً ایک تہائی تجارت پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
امریکہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) پر رعایت چاہتا ہے، جسے وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اضافی بوجھ اور آزادی اظہار پر قدغن قرار دیتا ہے۔ تاہم یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان قوانین میں نرمی اس کے لیے سرخ لکیر ہے۔ توقع تھی کہ صدر ٹرمپ 15 اگست تک یورپی کاروں پر ٹیرف 27.5 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیں گے، لیکن مشترکہ اعلامیے کی تاخیر کے باعث یہ اقدام مؤخر کر دیا گیا ہے۔
























Comments
Comments are closed.