وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے جڑے سماجی و اقتصادی مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر قومی پالیسی اور حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے جمعرات کو آبادی میں اضافے اور اس کے اثرات سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کی تیاری میں تمام صوبوں کا بھرپور تعاون شامل ہونا چاہیے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ملک میں آبادی کی حالیہ شرح اور مستقبل کے تخمینوں سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی میں اضافہ 2.55 فیصد ہے جو باعث تشویش ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو سنبھالنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ انہیں ملک کی ترقی اور معیشت کا فعال حصہ بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے خواتین کی شمولیت کو بھی معیشت میں کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی سطح پر ایک جامع پالیسی کے بغیر آبادی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے مؤثر طور پر نہیں نمٹا جا سکتا۔
اس سلسلے میں عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی چلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
واضح رہے کہ 2 جولائی کو وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک اجلاس کے دوران آبادی میں 2.55 فیصد سالانہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان کی آبادی 2050 تک 38 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیرِاعظم کی سربراہی میں ایک ”نیشنل پاپولیشن کمیشن“ کے قیام پر اتفاق کیا گیا، جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی شامل ہو گی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ کمیشن کو قومی اہداف کے تعین، جوابدہی کے نظام کے قیام اور آبادی سے متعلق ایک متفقہ حکمتِ عملی کی تشکیل و عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی کا معاملہ صوبوں کے دائرہ کار میں آتا ہے، اور خاندانی منصوبہ بندی و تولیدی صحت کی سہولیات کی فراہمی ان کی ذمہ داری ہے، تاہم آبادی کے رجحانات کا براہِ راست اثر قومی ترقیاتی ترجیحات پر پڑتا ہے، جس کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔




















Comments
Comments are closed.