سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کو مالی سال 2024-25 کے لیے ریسٹورنٹس پر لاگو کی گئی ڈیجیٹل ادائیگی کی ترغیبی اسکیم کے نفاذ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ اسکیم، جسے رواں سال بھی برقرار رکھا گیا ہے، اپنے ابتدائی مقاصد سے ہٹ کر اب امتیازی اور غیر منصفانہ رویوں کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے اس اسکیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں
پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) کی جانب سے گزشتہ ہفتے چیئرمین ایس آر بی ڈاکٹر واصف میمن کو لکھے گئے خط میں اس پالیسی پر واضح اعتراضات اٹھائے گئے۔
ابتدائی طور پر یہ اسکیم ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف بنانے اور نقد معیشت کو محدود کرنے کے ایک مثبت اور اصلاحی قدم کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے اس کے اصل مقصد کو ہی مجروح کر دیا۔
واضح رہے کہ مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے جامع مالیاتی اقدامات کے تحت سندھ ریونیو بورڈ نے صوبے بھر میں ریسٹورنٹس پر عائد اسٹینڈر سیلز ٹیکس کی شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردی تھی۔
مالیاتی اقدامات کے تحت ایس آر بی نے ریسٹورنٹس سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی، اور ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے دہری شرح کا نظام متعارف کروایا۔ اس کے تحت، اگر صارفین کارڈ، موبائل والٹس یا کیو آر کوڈز کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں تو صرف 8 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا، جبکہ نقد ادائیگیوں پر مکمل 15 فیصد کی شرح برقرار رکھی گئی۔یہ ایک دانشمندانہ قدم تھا جس کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا، ٹیکس رسیدوں اور مجموعی معیشت کی بہتر دستاویز بندی کرنا، ریونیو کی وصولی کو مؤثر بنانا اور نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔
یہ کوئی نیا تصور نہیں تھا—پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 2021 میں یہی ماڈل کامیابی سے نافذ کیا، جس کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بھی اسلام آباد میں اسے اختیار کیا۔
ایس آر بی نے پالیسی کے تحت ایسے 73 ریسٹورنٹس کو—جو پہلے سے POS (پوائنٹ آف سیل) نظام سے منسلک تھے—یہ رعایت دی کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بھی مکمل 15 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرتے رہیں۔ اس امتیازی سلوک نے مارکیٹ میں شدید عدم توازن پیدا کر دیا، جس سے چھوٹے اور نئے ریسٹورنٹس کو خاص طور پر نقصان ہوا۔
اگر مقصد واقعی پی او ایس کو فروغ دینا تھا تو یہ رعایت تمام ریسٹورنٹس کو مساوی بنیادوں پر دی جانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہ ہوا، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف مقابلے کی فضا متاثر ہوئی بلکہ اسکیم کا بنیادی مقصد—ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نظام کی بہتری—بھی پیچھے رہ گیا۔
اس پالیسی کا ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ امتزاج بھی مسئلہ بن گیا۔
تمام ریسٹورنٹس خواہ وہ دہری شرح کی اسکیم میں شامل ہوں یا نہیں، اپنی خریداری پر ادا کیا گیا سیلز ٹیکس، صارفین سے حاصل کردہ سیلز ٹیکس میں سے منہا کرتے ہیں۔
تاہم وہ ریسٹورنٹس جو مکمل 15 فیصد شرح وصول کرتے ہیں، عام طور پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی زیادہ گنجائش رکھتے ہیں کیونکہ وہ صارفین سے زیادہ ٹیکس وصول کرتے ہیں جبکہ وہ ریسٹورنٹس جو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 8 فیصد ٹیکس چارج کرتے ہیں، اس حوالے سے محدود ہوتے ہیں کیونکہ عمومی سیلز ٹیکس نظام کے تحت غیر معیاری شرح پر ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوتی۔ یوں اسکیم سے باہر موجود ریسٹورنٹس کو ایک واضح فائدہ حاصل ہوجاتا ہے۔
غیر مساوی سلوک سے ہٹ کر اس اقدام نے شفافیت، دستاویزی نظام، ٹیکس کی پابندی اور ڈیجیٹلائزیشن کے مجموعی مقصد کو بھی کمزور کردیا ہے۔
زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس اسکیم نے صارفین کو بھی متاثر کیا ہے۔ جو افراد ڈیجیٹل ادائیگی کرتے ہیں وہ ٹیکس میں وہ رعایت حاصل نہیں کر پاتے جو ان کے لیے مخصوص کی گئی تھی کیونکہ ریسٹورنٹس کو اس اسکیم سے باہر رہنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جب کہ صارف کو کوئی انتخاب نہیں دیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ مخصوص اور بااثر ریسٹورنٹس مالکان کے لیے سیاسی دباؤ کے تحت رعایتیں نکالی گئی ہیں، جو کہ ناقابل قبول ہے۔ ایسی پالیسیاں نہ صرف مارکیٹ کی شفافیت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اداروں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔
صرف اسی صورت میں اس اسکیم کا وعدہ—یعنی مساوات، صارفین کو فائدہ اور بہتر دستاویزی نظام—پورا ہو سکتا ہے۔ ایس آر بی کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی موجودہ پالیسی نے اس کے وقار اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
وفاقی ادارے کے برعکس ایس آر بی طویل عرصے سے ٹیکس انتظام اور وصولی دونوں میں ایک شاندار شہرت کا حامل رہا ہے، اس ساکھ کو بلاجواز سیاسی دباؤ کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.