آئرن اور اسٹیل انڈسٹری، وزارتِ تجارت کی ٹیرف ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز
- تبدیلیوں کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مقامی مینوفیکچررز کے ساتھ ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کو سہارا دینا ہے، ذرائع
سیکرٹری تجارت کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ تجارت نے ملک کی آئرن اور اسٹیل صنعت کے ٹیرف ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز دی ہے تاکہ اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور مقامی مینوفیکچررز کے ساتھ ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کو سہارا دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ تجارت نے 3 جنوری 2025 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو فلیٹ اسٹیل مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز (آر ڈی) کی توسیع سے متعلق سمری جمع کرائی جسے 20 جنوری کو منظور کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ ای سی سی نے ہدایت دی کہ اسٹیل سیکٹر کا تفصیلی تجزیہ اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کے اثرات پر رپورٹ 31 مارچ 2025 تک پیش کی جائے، جس کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کو ذمہ داری سونپی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں اسٹیل کی مجموعی پیداوار 8.40 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) رہی جس میں لمبے اسٹیل پروڈکٹس کا حصہ 60 فیصد، فلیٹ پروڈکٹس 30 فیصد، ٹیوبز اور پائپ 7 فیصد اور دیگر مصنوعات 3 فیصد تھیں۔ اسی مالی سال کے دوران 5.60 ایم ایم ٹی اسٹیل مصنوعات درآمد کی گئیں جن میں 50 فیصد سکریپ شامل تھا جبکہ ایکسپورٹس 0.10 ایم ایم ٹی رہیں۔ یوں کل کھپت 13 ایم ایم ٹی رہی، جس کا 60 فیصد تعمیرات اور انفراسٹرکچر، 25 فیصد دیگر شعبوں، 10 فیصد آٹوموٹو اور ٹرانسپورٹ اور 5 فیصد گھریلو اشیاء میں استعمال ہوا۔
عالمی سطح پر پاکستان کی اسٹیل پیداوار کا حصہ محض 0.28 فیصد اور کھپت 0.4 فیصد ہے جبکہ فی کس استعمال صرف 36 کلوگرام ہے جو عالمی اوسط 247 کلوگرام سے 6.5 گنا کم ہے۔
رپورٹ میں اہم نکات یہ اجاگر ہوئے: (i) ملکی اسٹیل صنعت کی پیداواری صلاحیت استعمال سے کم ہے، درآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ ٹیرف بگاڑ اور زیادہ توانائی لاگت مقامی صنعت کو متاثر کر رہی ہیں؛ (ii) لمبے اسٹیل کی پیداواری صلاحیت مالی سال 23 میں 7.0 ایم ایم ٹی سے بڑھ کر مالی سال 25 میں 8.0 ایم ایم ٹی ہوئی لیکن پیداوار اتار چڑھاؤ کا شکار رہی؛ (iii) بلٹس اور اسٹیل بارز پر بلند تحفظ موجود ہے جس کی ایفیکٹیو پروٹیکشن ریٹ (ای پی آر) 123 فیصد تک ہے، جو قیمتیں بڑھا کر برآمدی مسابقت کو متاثر کرتی ہے؛ (iv) بلند ٹیرف، توانائی اور مالیاتی اخراجات اور معاشی سست روی نے اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا؛ (v) فلیٹ اسٹیل میں برآمدات کا رجحان حوصلہ افزا ہے، مالی سال 24 میں امریکہ اور کینیڈا کو سی آر سی، جیلوانائزڈ اور کوٹیڈ شیٹس کی برآمدات 363 ملین ڈالر تک پہنچیں۔
نیشنل ٹیرف کمیشن نے سفارش کی کہ خام مال جیسے آئرن اور سکریپ پر ڈیوٹی صفر فیصد کی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو۔ ری رول ایبل سکریپ اور بلٹس پر بھی یکساں ڈیوٹی ڈھانچہ اپنانے کی تجویز دی گئی۔ تیار مصنوعات جیسے ریبارز، وائر راڈز اور الائے بارز پر کسٹمز ڈیوٹی 11-20 فیصد، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی 2-6 فیصد اور ریگولیٹری ڈیوٹی 10-30 فیصد ہے، جنہیں آئندہ تین سال میں کم کر کے ریگولیٹری ڈیوٹی کو 10 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی۔ فلیٹ اسٹیل پروڈکٹس پر کوئی تبدیلی نہیں جبکہ ہاٹ رولڈ کوائلز (ایچ آر سی) جو مقامی طور پر تیار نہیں ہوتیں، ان پر صفر ڈیوٹی کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں، توانائی لاگت کم کرنے کے لیے اسٹیل صنعت کے لیے بجلی نرخ 7 سینٹ فی یونٹ مقرر کرنے، شرح سود سنگل ڈیجٹ پر لانے اور مستحکم ایکسچینج ریٹ فراہم کرنے کی سفارش کی گئی۔ رپورٹ میں 10 سالہ شعبہ جاتی پالیسی کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ مقامی آئرن اوور پروسیسنگ، ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹس اور برآمدی استعداد بڑھا کر اسٹیل صنعت کو ملکی معیشت کا مضبوط ستون بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.