نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر، نیویارک میں ”اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق معاہدے (بی بی این جے معاہدہ)“ پر دستخط کر دیے ہیں۔
اس معاہدے پر دستخط پاکستان کے کثیرالجہت تعاون اور قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی وسائل کے تحفظ و پائیدار استعمال سے متعلق عزم کا مظہر ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بی بی این جے مذاکرات میں نمایاں کردار ادا کیا اور 2022 میں ہونے والے دو مرکزی اجلاسوں کے دوران گروپ 77 اور چین کی صدارت کے فرائض انجام دیے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ آواز کی نمائندگی کرتے ہوئے منصفانہ فائدہ کی تقسیم، صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حق میں مسلسل موقف اختیار کیا ہے، جو انسانیت کے مشترکہ ورثے کے اصول کے مطابق ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق بی بی این جے معاہدہ 19 جون 2023 کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے بین الحکومتی کانفرنس میں اپنایا گیا۔ یہ معاہدہ سمندر کے قانون کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کا تیسرا نفاذی معاہدہ بن گیا ہے۔
اس معاہدے کا مجموعی مقصد قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو موجودہ اور طویل مدتی طور پر یقینی بنانا ہے، جو متعلقہ دفعات کی موثر عملدرآمد اور بین الاقوامی تعاون و ہم آہنگی کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں چار اہم مسائل کو حل کیا گیا ہے:
-
سمندری جینیاتی وسائل، بشمول فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم
-
علاقے کی بنیاد پر انتظامی اقدامات، جن میں سمندری محفوظ علاقے شامل ہیں
-
ماحولیاتی اثرات کا جائزہ
-
صلاحیت سازی اور سمندری ٹیکنالوجی کی منتقلی
معاہدہ متعدد ”بین الضابطہ مسائل“ کو بھی حل کرتا ہے، ایک مالی معاونت کا نظام قائم کرتا ہے اور ادارہ جاتی انتظامات ترتیب دیتا ہے، جن میں فریقین کی کانفرنس، مختلف ضمنی ادارے، کلیرنگ ہاؤس میکانزم اور ایک سیکریٹریٹ شامل ہیں۔






















Comments
Comments are closed.