BR100 Increased By (0.01%)
BR30 Decreased By (-1.15%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.05%)
BAFL 58.30 Increased By ▲ 0.53 (0.92%)
BIPL 23.26 Increased By ▲ 0.11 (0.48%)
BOP 28.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.88%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -1.36 (-9.97%)
DFML 15.07 Decreased By ▼ -0.34 (-2.21%)
DGKC 182.36 Increased By ▲ 4.21 (2.36%)
FABL 92.50 Increased By ▲ 1.10 (1.2%)
FCCL 53.81 Increased By ▲ 1.53 (2.93%)
FFL 12.80 Decreased By ▼ -0.10 (-0.78%)
GGL 18.11 Decreased By ▼ -0.90 (-4.73%)
HBL 285.17 Decreased By ▼ -6.38 (-2.19%)
HUBC 195.28 Increased By ▲ 2.10 (1.09%)
HUMNL 8.48 Decreased By ▼ -0.09 (-1.05%)
KEL 5.64 Decreased By ▼ -0.15 (-2.59%)
LOTCHEM 23.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.42%)
MLCF 91.96 Increased By ▲ 1.45 (1.6%)
OGDC 301.68 Decreased By ▼ -5.10 (-1.66%)
PAEL 31.81 Decreased By ▼ -0.52 (-1.61%)
PIBTL 12.78 Decreased By ▼ -0.15 (-1.16%)
PIOC 235.63 Increased By ▲ 2.49 (1.07%)
PPL 212.06 Decreased By ▼ -1.87 (-0.87%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 90.01 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.86 Increased By ▲ 0.33 (1.46%)
TELE 6.44 Decreased By ▼ -0.28 (-4.17%)
TPLP 12.16 Decreased By ▼ -0.44 (-3.49%)
TRG 51.87 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
UNITY 7.61 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

امریکہ کا سفر مہنگا، 250 ڈالر کی نئی ویزا انٹیگریٹی فیس نافذ

  • ڈی ایچ ایس کو یقین ہے نئی فیس مسافروں کی ویزا مدت سے زیادہ قیام کی شرح کم کرے گی
شائع اپ ڈیٹ

غیر ملکی مسافروں کو جلد ہی امریکہ کا سفر کرنے کے لیے ایک نئی ویزا انٹیگریٹی فیس ادا کرنا ہوگی، جو ابتدائی طور پر 250 ڈالر ہے اور توقع ہے کہ افراطِ زر کی بنیاد پر آنے والے برسوں میں اس میں اضافہ ہوگا۔

یہ نئی فیس ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ کے تحت عائد کی گئی ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں نافذ کردہ ایک ملکی پالیسی بل ہے۔ سی این این کے مطابق، یہ فیس سینکڑوں اور ہزاروں مسافروں کو متاثر کرے گی کیونکہ یہ تقریباً تمام نان امیگرنٹ ویزا کیٹیگریز پر لاگو ہوتی ہے۔

سیاحت، کاروباری مقاصد، بین الاقوامی طلبہ اور دیگر عارضی دوروں پر آنے والوں کو یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ سال تقریباً 11 ملین نان امیگرنٹ ویزے جاری کیے۔

وہ سیاح اور کاروباری افراد جو مختلف یورپی ممالک اور آسٹریلیا سمیت ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جو ویزا ویور پروگرام کا حصہ ہیں، 90 دن تک قیام کے لیے ویزے حاصل کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔

یہ فیس ویزا درخواست دیتے وقت ادا کرنا ہوگی اور کسی قسم کی رعایت دستیاب نہیں ہوگی۔ بل کی شقوں کے مطابق، جو مسافر اپنی ویزا شرائط کی پاسداری کریں گے انہیں سفر مکمل ہونے پر یہ فیس واپس کی جا سکتی ہے۔

اس نئی پالیسی کے بارے میں اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں، امیگریشن وکیل اسٹیون اے براؤن، جو ہیوسٹن کی فرم ریڈی نیومن براؤن پی سی کے پارٹنر ہیں، نے اس فیس کو ”ریفنڈ ایبل سکیورٹی ڈپازٹ“ قرار دیا۔ براؤن نے کہا کہ رقم واپس لینے کا طریقہ ابھی واضح نہیں ہے۔

سی این این کو بھیجے گئے ایک ای میل میں براؤن نے کہا کہ اس فیس کے مقصد کے حوالے سے یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر امیگریشن فیسیں کارروائی یا ویزا جاری کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لی جاتی ہیں، لیکن ریفنڈ کی شق کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جمع کروائی گئی تمام رقم واپس کی جائے۔ ایک مثالی دنیا میں، ویزا کی مدت سے تجاوز یا خلاف ورزیاں بالکل نہ ہوتیں۔

سی این بی سی کے مطابق، براؤن نے کہا کہ یہ فیس ابھی تک نافذ نہیں کی گئی۔

فوربز نے رپورٹ کیا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی جو یہ نئی فیس مقرر کر رہا ہے، کا خیال ہے کہ اس سے مسافروں کی جانب سے ویزا کی مدت سے تجاوز میں کمی آئے گی،

ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اب تک ریفنڈ کے طریقۂ کار یا پالیسی کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت نہیں کی ہے۔

ایک ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ویزا انٹیگریٹی فیس کو نافذ کرنے کے لیے ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیس “امیگریشن انفورسمنٹ کو مضبوط بنانے، ویزا کی مدت سے تجاوز روکنے اور بارڈر سیکیورٹی کی فنڈنگ کے لیے انتظامیہ کی ترجیحات کی حمایت کے لیے عائد کی گئی ہے۔

بل کی شق میں کہا گیا ہے کہ جو فیسیں واپس نہیں کی جائیں گی، وہ خزانے کے جنرل فنڈ میں جمع کی جائیں گی۔

دریں اثنا یو ایس ٹریول ایسوسی ایشن نے سیاحت پر ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر آنے والے بین الاقوامی ایونٹس کے حوالے سے۔ ایسوسی ایشن نے اس فیس کو ایک بڑا منفی قدم قرار دیا۔

Comments

Comments are closed.