جاپان میں اتوار کو ہونے والے ایوانِ بالا کے انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی سانسیٹو پارٹی بڑے فاتحین میں سے ایک بن کر ابھری۔ پارٹی نے ’’خاموش یلغار‘‘ کے خدشات اور ٹیکسوں میں کمی و فلاحی اخراجات بڑھانے کے وعدوں سے حمایت حاصل کی۔
کووِڈ-19 وبا کے دوران یوٹیوب پر ویکسین اور عالمی اشرافیہ کے بارے میں سازشی نظریات پھیلانے سے شہرت پانے والی اس پارٹی نے ’’جاپان فرسٹ‘‘ مہم کے ذریعے مرکزی دھارے کی سیاست میں قدم رکھا۔ پارٹی نے 14 نشستیں جیتیں، جو تین سال قبل حاصل کی گئی واحد نشست میں اضافہ ہے، جبکہ ایوانِ زیریں میں اس کے پاس صرف تین نشستیں ہیں۔
پارٹی کے رہنما 47 سالہ سوہی کامییا نے کہا کہ ’’جاپان فرسٹ کا مطلب ہے جاپانی عوام کی زندگیوں کو عالمی ازم کے خلاف بحال کرنا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکیوں پر مکمل پابندی کی وکالت نہیں کی جا رہی۔
وزیرِاعظم شیگیری ایشیبا کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اس کی اتحادی کو میتو نے ایوانِ بالا میں اکثریت کھو دی، جو اکتوبر میں ایوانِ زیریں کی شکست کے بعد اپوزیشن پر مزید انحصار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کامییا نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’بہادر سیاسی انداز‘‘ سے متاثر ہو کر پارٹی کی بنیاد رکھی اور اب وہ یورپی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرح چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں خواتین امیدواروں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں سنگر ’’سایا‘‘ بھی ہیں جنہوں نے ٹوکیو سے نشست جیتی۔
پارٹی کے یوٹیوب چینل کے 400,000 فالوورز ہیں، جو ایل ڈی پی سے تین گنا زیادہ ہیں۔ کامییا نے کہا کہ ’’ہماری تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور جلد 50 سے 60 نشستیں حاصل کر کے ہماری پالیسیوں کو حقیقت کا روپ دیں گے۔‘‘
انتخابات سے قبل سروے میں 29 فیصد ووٹروں نے سماجی تحفظ اور کم شرح پیدائش کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، جبکہ 28 فیصد بڑھتی ہوئی چاول کی قیمتوں سے پریشان تھے۔ پارٹی کی مقبولیت نے جاپان کی سیاست کو مزید دائیں جانب دھکیل دیا ہے۔

























Comments
Comments are closed.